زید ایک کمپنی سے TENDER (ٹھیکہ) لینا چاہتا ہے , اس ٹھیکہ لینے کی خاطر اکرم (جو اسی کمپنی کا ملازم ہے) زید سے %5 کمیشن مانگتا ہے , جبکہ یہ کمیشن اکرم کے لئے قانوناً ممنوع ہے ۔
مگر مسئلہ یہ ہے کہ کسی بھی کمپنی میں ٹھیکہ لینا ہو تو اکرم جیسے لوگوں کو کمیشن دیے بغیر ٹھیکہ نہیں ملتا۔
اب سوال یہ ہے کہ زید اگر اکرم کو کمیشن دیتا ہے تو زید کے لئے یہ کمیشن دینا شرعاً کیسا ہے ؟
صورتِ مسئولہ میں اگر مسمیٰ اکرم کا اصل کام ہی ٹھیکہ پر کمپنی کا کام دینا ہو ،اور اس کام کی اس کو کمپنی کی طرف سے باقاعدہ اجرت (تنخواہ) ملتی ہو ،تو زید کو ٹھیکہ دینے پر اس سے کمیشن لینا شرعاً رشوت ہے ،جس کا لینا اکرم کیلئے کسی بھی حال جائز نہیں ،البتہ اگر کمیشن نہ دینے کی صورت میں زید کو کام ہی نہ ملے ،اور اس کو مشقت ہو ،تو ایسی مجبوری کی صورت میں زید تو گناہ گار نہ ہوگا ،لیکن اکرم کیلئے بہر حال کمیشن لینا جائز نہیں ،جس سے بہر صورت احتراز لازم ہے ۔
فی المشکاۃ المصابیح : و عن عبد الله بن عمرو قال : لعن رسول الله صلى الله عليه و سلم الراشي و المرتشي . رواه أبو داود و ابن ماجه اھ(2/1108)-
الرابع : ما يدفع لدفع الخوف من المدفوع إليه على نفسه أو ماله حلال للدافع حرام على الآخذ ؛ لأن دفع الضرر عن المسلم واجب و لا يجوز أخذ المال ليفعل الواجب ، اهـ ما في الفتح ملخصا . و في القنية الرشوة يجب ردها و لا تملك و فيها دفع للقاضي أو لغيره سحتا لإصلاح المهم فأصلح ثم ندم يرد ما دفع إليه اهـ ، و تمام الكلام عليها في البحر و يأتي الكلام على الهدية للقاضي و المفتي و العمال . اھ(5/362)-
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0