کیا فرماتے ہیں علماءِ دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے علاقے بٹگرام میں ہماری ایک دکان ہے اس میں جو کرایہ دار مسمّی حبیب الرحمن اور اس کا بھائی "طوطی" عرصہ دو سال سے کرایہ نہیں دے رہے اور اس میں اپنا کاروبار کررہے ہیں، تنازعہ اس بات پر ہے کہ وہ 200/= روپے سے زیادہ کرایہ دینے کو تیار نہیں اور کہتے ہیں یہی 200/= روپے لینے ہیں تو ، لو ، ورنہ کرایہ ہم نہیں دیتے اور ہم ان سے ایک ہزار روپے طلب کر رہے ہیں کیونکہ موجودہ مہنگائی میں 200/= روپے سے ہمارا کچھ نہیں بنتا ، جبکہ ہم نے ان سے کہہ دیا ہے کہ اگر آپ ہزار روپے نہیں دے سکتے تو ہماری تم پر زبردستی نہیں کہ آپ ضرور رہیں بلکہ آپ دکان خالی کردیں ہم خود اس میں اپنا کاروبار کریں گے یا جس کو مرضی ہو ، دیں گے۔
اس پر ان کی طرف سے جواب یہ ملتا ہے کہ تم دکان کا سارا مال لو ویسے ہم خالی نہیں کریں گے، اب دریافت طلب امور یہ ہیں کہ:
(۱) کیا جب یہ کرایہ نہیں دیتا اور اس طرح اس دکان سے جو کمائی حاصل ہوتی ہے یہ حلال ہے یا حرام؟
(۲) کیا کرایہ طے کرنا یہ مالک کی مرضی پر منحصر ہے یا کرایہ دار کی مرضی کے مطابق کرایہ لیا جائے گا؟
(۳) کیا دکان خالی کرانے کی صورت میں ہم پر سامان لینا لازم ہے جبکہ وہ سامان بھی ہمارے کام کا نہیں ، عام لہو لعب کھلونے ہیں اور نہ اس کے فروخت کرنے کا ہم کو تجربہ ہے۔
(۴) کیا شفعہ کا حق کرایہ دار کا ہے یا اس کے ساتھ متصل جس کی دکان ہے اس کے مالک کا؟ کیونکہ یہ دکان ہم نے اپنے ایک رشتہ دار سے لی ہے اور اس دکان کی جگہ کا انتقال بھی پہلے سے ہمارے نام پر ہے ، اس نے بنائی تھی اس کے بعد ہم نے اس کو رقم دے کر اس سے لے لی ، اس دکان کی دیوار اور ہماری دکان کی دیوار ایک ہے اور اس کے پیچھے کی طرف بھی ہماری ایک دکان ہے اس کی دیوار بھی اس سے متصل ہے۔
(۵) کیا ایک شخص پوری دنیا میں تبلیغ تو کرتا ہے لیکن اس نے دوسرے کی دکان غصب کی ہے اور اس کمائی سے وہ لوگوں کو تبلیغ کرتے پھرتا ہے کیا ، اس سے تبلیغ والوں کی بدنامی اور دین کو نقصان نہیں ہے؟
(۶) جو شخص شرعی فیصلے کو نہیں مانتا اور اس کے مطابق عمل نہیں کرتا اس کے بارے میں شریعت کا کیا فیصلہ ہے؟
صورتِ مسئولہ میں اگر مدت اجارہ متعین نہیں تھی تو اب مالکِ دکان کے جائز مطالبہ پر کرایہ داروں کا مذکورہ ٹال مٹول کے ذریعے دکان پر قبضہ جمائے رکھنا قطعاً ناجائز اور غصب ہے جس کے بارے میں احادیثِ مبارکہ میں بڑی سخت وعیدیں آئی ہیں لہٰذا ان کرایہ داروں پر لازم ہے کہ اپنے اس کئے پر فوراً توبہ و استغفار کریں اور پھر باہمی صلاح و مشورہ سے کرایہ کی ایک مناسب مقدار پر اتفاق کرلیں ، ورنہ سابقہ مدت کا کرایہ دے کر دکان خالی کردیں، اس تفصیل کے بعد آپ کے سوالات کے جوابات بھی نمبر وار درج کئے جاتے ہیں:
(۱) کرایہ نہ دینے کہ وجہ سے گناہ گار ہیں تاہم اگر جائز طریقہ سے کاروبار کرتے ہیں تو اس سے حاصل ہونے والی آمدنی حلال ہی کہلائے گی۔
(۲) کرایہ طے کرنے کا اختیار مالکِ دُکان کا حق ہے تاہم باہمی صلاح و مشورہ سے ایک مناسب مقدار طے کرنی چاہئے۔
(۳) دکان خالی کرنے کی صورت میں مذکور دکان کا سامان خریدنا شرعاً سائل پر لازم نہیں۔
(۴) صورتِ مسئولہ میں کرایہ دار کو شفعہ کرنے کا حق قطعاً حاصل نہیں۔
(۵) جی ہاں یہ درست ہے کہ اس سے دین والوں کی بدنامی ہوتی ہے اور نقصان بھی ہوتا ہے مگر اس سے زیادہ ان کرایہ داروں کی بدنامی ہے جس کی وجہ سے ان پر لازم ہے کہ اپنے اس فعل سے احتراز کریں اور دو (۲) پیسے کی خاطر دین و دنیا کی بدنامی سے بچیں۔
(۶) اگر کوئی شخص شریعت کے کسی صریح حکم سے انکار کرے تو اس سے کفر لازم آتا ہے اور ایسے شخص کے بارے میں عدالت سے رجوع کرنا چاہئے۔
و فی الشامیۃ : و في الخانية : استأجر دارا أو حماما أو أرضا شهرا فسكن شهرين هل يلزمه أجر الثاني : إن معدا للاستغلال نعم، و إلا لا، و به يفتى. قلت : فكذا الوقف و مال اليتيم ، و كذا لو تقاضاه المالك و طالبه بالأجر فسكت يلزمه الأجر بسكناه بعده ۔(ج۶،ص۸۵)۔
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0