کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ!
(۱) ہمارے علاقے صوبہ سرحد میں تنازعات کا فیصلہ کرنے کیلئے جرگہ نظام رائج ہے، جرگے کے اراکین فریقین میں فیصلہ اور صلح کرنے کیلئے جب آتے ہیں تو وہ فریقین سے وقت اور فاصلے کی مناسبت سے طرفین کا کرایہ نقد وصول کرتے ہیں، لہٰذا اس کا شرعی جوا زکیا ہے؟
(۲) فیصلہ کرنے کے بعد فریقین سے باقاعدہ اجرت کے طور پر نقد رقم وصول کرتے ہیں، جن کو مقامی زبان میں ’’پگڑی‘‘ کا نام دیتے ہیں، مثال کے طور پر بیس ہزار روپے مالیت کے تنازع میں فریقین سے چار پانچ ہزار روپے وصول کرتے ہیں، جواز یہ پیش کرتے ہیں کہ اس کے بغیر فریقین میں صلح مستحکم نہیں ہوتا، لہٰذا یہ جواز از روئے شریعت کیسا ہے؟
(۳) دورانِ مذاکرات برائے صلح مابین فریقین اگر کسی فریق کی طرف سے کوئی بات ارکانِ جرگہ کو ناگوار گزری یعنی کسی فریق نے ان کے خلاف کچھ بات کہی اور کوئی رکن ناراض ہوا، یا کھانے پینے اور خدمت میں کوئی کوتاہی ہوئی تو بھی فریقین سے جرمانہ وصول کرتے ہیں، شرعی لحاظ سے یہ جرمانہ کیسا ہے؟
(۴) بعض اوقات ارکانِ جرگہ کسی فریق کو ایسا جرمانہ سناتے ہیں جو کہ اس کے مالی استعداد سے باہر ہوتا ہے اور کسی صورت میں ادا کرنے کی طاقت نہیں رکھتا، یہ کیسا ہے؟
مندرجہ بالا صورتوں میں جو پیسے ارکانِ جرگہ وصول کرتے ہیں اور اپنے استعمال میں لاتے ہیں یہ ان کیلئے حلال ہے یا حرام؟
(۵) کسی فریق کو جرمانہ سنانے کے بعد اس کی وصولی کیلئے پورا قبیلہ اور برادری اجتماعی طور پر مذکورہ فریق کے گھر پر جمع ہوتا ہے بعض اوقات شر اور فساد بھی ہوجاتا ہے، فساد اور نقصان کی صورت میں اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟
آپ جناب سے ان تمام سوالوں کے جواب مطلوب ہیں، قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب دے کر عنداللہ ماجور ہوں۔ شکریہ
جاننا چاہئے کہ جن علاقوں کا سرکاری عدالت سے کوئی سروکار نہیں بلکہ وہاں جرگہ اور پنچائت کا رواج ہے اور پھر جرگہ اور پنچائت کے ارکان یا ان کا سربراہ روز مرہ کے مسائل اور معاملات سے بخوبی واقف ہو ں یا ناواقف ہونے کی بناء پر اہلِ علم سے مسئلہ کی تحقیق کے بعد شرعی اصولوں کے مطابق اس معاملہ کا فیصلہ کرتے ہوں تو اس صورت میں قاضی کے حکم میں ہونے کی بناء پر ان کیلئے فریقین سے وقت اور فاصلہ کی مناسبت سے وہاں کے عرف اور رواج کے مطابق مناسب کرایہ یا کاغذ پینسل وغیرہ کے اخراجات وصول کرنا جائز ہے۔
تاہم مذکورہ صفات کے حامل جرگہ یا پنچائت کے ارکان کا فریقین سے اس فیصلہ کی اُجرت، یا ان کی طبیعت کے خلاف بات کرنے کی بناء پر فریقین سے مالی جرمانہ وصول کرنا وغیرہ قطعاً درست نہیں اس سے احتراز واجب ہے۔
اسی طرح مذکور پنچائت یا جرگہ والے احباب ان صفات کے حامل نہ ہوں اور ان کا فیصلہ بھی قرآن و حدیث کی روشنی میں درست نہ ہو تو اس صورت میں ان کے فیصلہ پر عمل کرنا ہی جائز اور درست نہیں چہ جائیکہ وہ فریقین سے جرمانہ وغیرہ وصول کریں، اس صورت میں ان ارکان پر لازم ہے کہ وہ ان معاملات کے بارے میں پہلے اہلِ علم سے رجوع کریں اور پھر فیصلہ نافذ کریں، اسی طرح بلاوجہِ شرعی فریقین سے مالی جرمانہ وصول کرنے سے بھی احتراز کریں۔
و قال تعالیٰ: و لا تاکلوا اموالکم بینکم بالباطل و تدلو بہا الی الحکام لتاکلوا فریقا من اموال الناس۔ (سورۃ البقرۃ)۔
و قال علیہ السلام: ألا لا یحل مال امرئٍ الا بطیب نفس منہ۔
و قال الامام السرخسیؒ: و لا بأس ان یکلف القاضی الطالب صحیفۃ یکتب فیہا حجتہ و شہادہ شہودہ لان منفعۃ ذلک لہٗ و الذی یحق علی القاضی مباشرۃ القضاء فاما الکتابۃ لیست علیہ فلا یلزمہ اتخاذ الصحائف لذالک من مال نفسہٖ و لکن لو کان فی بیت المال سعۃ فرای ان یجعل ذلک من بیت المال فلا بأس بذٰلک لانہٗ یتصل بعملہ۔ الخ (ج۱۶، ص۹۴)۔
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0