اسلام علیکم
کیا فرماتے ہیں علمائے اکرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہم اگر جاز کیش میں سے دکان دار سے پیسے نکلواتے ہیں تو وہ دکان دار اکاؤنٹ سے پیسے نکالنے کے 1000 پر 20 روپے چارج کرتا ہے اور پیسے بھیجنے پر 10 روپے چارج کرتا ہے آیا یہ صحیح ہے یا نہیں یہ سود تو نہیں ہے؟ویسے اگر کمپنی کے تھرو پیسے نکلوائیں وہ بھی 1000 کے پیچھے 20 روپے کٹوتی کرتی ہے
واضح ہو کہ موبی کیش یا ایزی پیسہ اکاؤنٹ میں پیسے ڈالنے والے افراد (ریٹیلر) کمپنی کی طرف سے انکے مقرر کردہ نمائندے اور وکیل کی حیثیت رکھتے ہیں، جس پر انہیں کمپنی معاوضہ بصورت کمیشن دیتی ہے ، اور انہیں کسٹمر سے کمپنی کی طرف سے مقرر کردہ رقم سے زائد رقم وصول کرنے کی اجازت بھی نہیں ہوتی لہذا انکا کسٹمر سے ایزی پیسہ یا موبی کیش اکاؤنٹ میں رقم ڈالنے یا نکالنے پر کمپنی کی طرف سے طے شدہ رقم سے زائد رقم وصول کر ناشر عا درست نہیں جس سے اجتناب لازم ہے۔
کما في رد المحتار:
جملة الأمر أن كل ما قيد به الموكل إن مفيدا من كل وجه يلزم رعايته أكده بالنفي أو لا كبعه بخيار فباعه بدونه. نظيره الوديعة إن مفيداك " احفظ في هذه الدار " تتعين، وإن لم يقل لا تحفظ إلا في هذه الدار لتفاوت الحرز وإن لا يقد أصلا لا يجب مراعاته كبعه بالنسيئة فباعه بنقد يجوز. وإن مفيدا من وجه يجب مراعاته إن أكده بالنفي وإن لم يؤكده به لا يجب. مثاله لا تبعه إلا في سوق كذا يجب رعايته بخلاف قوله بعه في سوق كذا وكذا في الوديعة إذا قال لاتحفظ الا فی ھذاالبیت یلزم الرعایة اھ (ج: 5 ص523)
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0