السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!حضرات ایک نہایت اہم مسئلہ درپیش ہے ،امید ہےکہ آپ صاحبان اچھی رہنمائی فرمائینگے، مسئلہ یہ ہے کہ ڈاکٹر آف فارمیسی لائسنس میڈیکل اسٹورز والے رینٹ پر مانگتے ہیں اور بعض اساتذہ کا کہنا ہے کہ آپ میڈیکل اسٹور کو لائسنس دیتے ہیں اور ان سے پیسے لیتے ہیں ،تو اب میڈیکل اسٹور والا جو بھی غلط کام کرتا ہے آپ بھی قصوروار ہونگے اور پیسے ناجائز ہونگے اور وجہ اسکی اس فیلڈ سے لا علمی ہیں ، اب اگر کوئی ایسا شخص جو پڑھا لکھا ہو اور اس فیلڈ میں ماہر ہو،میڈیسن کے استعمال سے خوب واقف ہو، اور وہ گورنمنٹ کے قوانین کی پاسداری کرتا ہو اور وہ فارمیسی یا میڈیکل اسٹور برانڈز ہو مثلاً ڈیواڈسن ،شاھین،عمر فارمیسی اور اسکے علاوہ ایسے اور بھی موجود ہیں جو کئی سالوں سے میڈیکل اسٹورز سے وابستہ ہیں ،اور وہ کئی سالوں کا محنت تو خراب نہیں کرسکتے اور وہ اس بات کی تصدیق بھی کرتے ہیں کہ ہم غلط کام جو انسانی زندگی اور صحت کے خلاف ہو نہیں کرتے،اسکو لائسنس دینا اور رینٹ وصول کرنا کیسا ہوگا ؟ کیونکہ ڈگری یا ڈپلومہ ہولڈرز کے پاس اتنے پیسے نہیں ہوتے جو فراغت کے بعد فوراً کاروبار شروع کرسکے،اسلئے پہلے سے موجود میڈیکل اسٹور ز کا سہارالیتے ہوئے لائسنس رینٹ پر دیتے ہیں،وضاحت فرمائیں؟اور اس مسئلے کو علماء اور مفتیان کرام منبر پر بھی پوری وضاحت کے ساتھ بیان کردیں تاکہ پوری فارماسسٹ کمیونٹی (جوکہ ڈاکٹر آف فارمیسی ڈگری ہولڈرز )اور فارمیسی ٹیکنیشنز( جوکہ فارمیسی ڈپلومہ ہولڈرز )ہیں اس بات کو اچھی طرح سمجھ سکے اور اگر یہ ناجائز یا حرام ہیں تو ناجائز اور حرام کی تعریف بھی کر لیں ۔ جزاکم اللہ خیراً !
واضح ہو کہ مذکور لائسنس حکومت کی طرف سے کسی شخص کو میڈیکل اسٹور کھولنے کا ایک حق اور اجازت نامہ ہے، جو مطلوبہ تعلیم پر مشتمل کورس کی تکمیل اور مہارت کے حصول کے بعد اسے دیا جاتا ہے ، اور اس کا استعمال قانونا ًبھی اس کی ذات تک محدودہوتا ہے اور اس قانونی پابندی کا منشاء و مقصد یہ ہیکہ میڈیکل اسٹور میں ایک مستند و تجربہ کار آدمی ہو جو لوگوں کے درمیان ادویات کی ترسیل جاری رکھے اور لوگ غلط ادویات سے محفوظ رہ کر ایک صحت مند و توانا زندگی گزار سکیں،لہذا فارمیسی لائسنس جس شخص کے لیے حکومت نے جاری کیا ہے، اس کے علاوہ کسی اورکواس کےاستعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی، نیز یہ لائسنس کوئی ایسا مال بھی نہیں ہے جس کو کرایہ پر دیا جاسکے یا فروخت کیا جاسکے، اس لیے اس کو کرایہ پر دینا شرعاً و قانوناً درست نہیں، جس سے احتراز لازم ہے۔
کما فی احکام القران للجصاص: قال اللہ تعالیٰ (یا ایھا الذین اٰمنوا أطیعوا اللہ و أطیعوا الرسول و اولی الامر منکم ) ومن الناس من يقول إن الأظهر من أولى الأمر هاهنا أنهم الأمراء لأنه قدم ذكر الأمر بالعدل وهذا خطاب لمن يملك تنفيذ الأحكام وهم الأمراء والقضاة ثم عطف عليه الأمر بطاعة أولي الأمر وهم ولاة الأمر الذين يحكمون عليهم ماداموا عدولا مرضيين وليس يمتنع أن يكون ذلك أمرا بطاعة الفريقين من أولي الأمر وهم أمراء السرايا والعلماء إذ ليس في تقدم الأمر بالحكم بالعدل ما يوجب الاقتصار بالأمر بطاعة أولي الأمر على الأمراء دون غيرهم الخ ( باب فی طاعۃ اولی الامر ، ج 2 ، ص 210 ، ط : سھیل اکیڈمی)۔
وفی صحیح مسلم:عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مر على صبرة طعام فأدخل يده فيها، فنالت أصابعه بللا فقال: ما هذا يا صاحب الطعام؟ قال أصابته السماء يا رسول الله، قال: "أفلا جعلته فوق الطعام كي يراه الناس، من غش فليس مني"(رقم الحدیث102،ج1،ص99،ط:دار إحياء التراث)۔
وفي بحوث في قضايا فقهيه معاصرة: هل يجوز لحامل رخصة الإيراد أو الإصدار أن يبيع هذه الرخصة إلى تاجر آخر؟ والواقع في هذه الرخصة أنها ليست عيناً مادية، ولكنها عبارة عن حق بيع البضاعة في الخارج أو شرائها منه فيتأتى فيه ما ذكرنا في الاسم التجاري من أن هذا الحق ثابت أصالة فيجوز النزول عنه بمال وبما أن الحصول على هذه الرخصة من الحكومة يتطلب كلاً من الجهد والوقت والمال، ويمنح حاملها صفة قانونية تمثلها الشهادات المكتوبة، ويستحق بها التجار تسهيلات توفرها الحكومة لحامليها ، وصارت هذه الرخصة في عرف التجار ذات قيمة كبيرة يسلك بها مسلك الأموال، فلا يبعد أن تلتحق بالأعيان في جواز بيعها وشرائها، ولكن كل ذلك إنما يأتي إذا كان في الحكومة قانون يسمح بنقل هذه الرخصة إلى رجل آخر، أما إذا كانت الرخصة باسم رجل مخصوص أو شركة مخصوصة، ولا يسمح القانون بنقلها إلى رجل آخر أو شركة أخرى، فلا شبهة في عدم جواز بيعها ، لأن بيعها يؤدي حينئذ إلى الكذب والخديعة، فإن مشتري الرخصة يستعملها باسم البائع، لا باسم نفسه، فلا يحل ذلك إلا بأن يوكل حامل الرخصة بالبيع والشراء.(ج1،ص114۔115،ط:دارالعلوم کراتشی)۔
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0