میں نے ایک گھر کراۓ پر دیا ھے جس میں کراۓ دار کی کمائی حرام ھے ۔ اب کیا جو کرایا وہ مجھے دیتا ھے میرے گھر میں رھنے کا وہ میرے لیے حرام ھے یا حلال؟
سائل نے یہ نہیں لکھا کہ مذکور شخص کیا کاروبار کررہاہے؟ اور اس کی کل یاغالب آمدنی حرام ہے، یا غالب آمدنی حلال اور باقی حرام ہے؟ تاکہ اسی کے مطابق جواب دیاجاتا، تاہم اگرمذکورشخص کی کل یاغالب آمدنی حرام ہو، تو اگرچہ ایک قول کے مطابق ان کے ساتھ خریدوفروخت اور کرایہ داری کا معاملہ کرنا جائز ہے، بشرطیکہ اجرت دیتے وقت وہ اس بات کی صراحت نہ کرے کہ یہ اجرت حرام مال سے ہی دے رہاہوں، لیکن اگر اس سے بھی احتیاط کی جائے تو یہ بہرحال افضل وبہترہے۔
البتہ اگر اس شخص کی غالب آمدنی حلال ہو، تو اس کے ساتھ خریدوفروخت یا کرایہ داری کا لین کرنا مطلقا جائز اور درست ہے۔
فی ردالمحتار:( 5/ 235، ط: سعید)
"اكتسب حراما واشترى به أو بالدراهم المغصوبة شيئا. قال الكرخي: إن نقد قبل البيع تصدق بالربح وإلا لا وهذا قياس۔ قال ابن عابدین: (قوله اكتسب حراما إلخ) توضيح المسألة ما في التتارخانية حيث قال: رجل اكتسب مالا من حرام ثم اشترى فهذا على خمسة أوجه: أما إن دفع تلك الدراهم إلى البائع أولا ثم اشترى منه بها أو اشترى قبل الدفع بها ودفعها، أو اشترى قبل الدفع بها ودفع غيرها، أو اشترى مطلقا ودفع تلك الدراهم، أو اشترى بدراهم أخر ودفع تلك الدراهم. قال أبو نصر: يطيب له ولا يجب عليه أن يتصدق إلا في الوجه الأول، وإليه ذهب الفقيه أبو الليث، لكن هذا خلاف ظاهر الرواية فإنه نص في الجامع الصغير: إذا غصب ألفا فاشترى بها جارية وباعها بألفين تصدق بالربح. وقال الكرخي: في الوجه الأول والثاني لا يطيب، وفي الثلاث الأخيرة يطيب، وقال أبو بكر: لا يطيب في الكل، لكن الفتوى الآن على قول الكرخي دفعا للحرج عن الناس اهـ. وفي الولوالجية: وقال بعضهم: لا يطيب في الوجوه كلها وهو المختار، ولكن الفتوى اليوم على قول الكرخي دفعا للحرج لكثرة الحرام اهـ وعلى هذا مشى المصنف في كتاب الغصب تبعا للدرر وغيرها۔"
أھدی إلی رجل شیئا أو أضافہ إن کان غالب مالہ من الحلال فلا بأس إلا أن یعلم بأنہ حرام، فإن کان الغالب ھو الحرام ینبغي أن لا یقبل الھدیة ولا یأکل الطعام إلا أن یخبرہ بأنہ حلال ورثتہ أو استقرضتہ من رجل کذا فی الینابیع، ولا یجوز قبول ھدیة أمراء الجور؛لأن الغالب في مالھم الحرمة إلا إذا علم أن أکثر مالہ حلال بأن کان صاحب تجارة أو زرع فلا بأس بہ ؛لأن أموال الناس لا تخلو عن قلیل حرام فالمعتبر الغالب، وکذا أکل طعامھم کذا فی الاختیار شرح المختار (۴:۱۸۷ط دار الکتب العلمیة بیروت)
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0