میری میڈیسن کی دکان ہے، ڈاکٹر میری دکان پر مریض کو دوائی لینے کے لئے ریفر کرتا ہے اور کمیشن لیتا ہے، کیا کمیشن لینا اور دینا حرام ہے یا حلال؟
اگر ڈاکٹر واقعۃً مریضوں کیلئے صرف وہ دوائیاں تجویز کرتا ہو جسکی ان کو واقعی ضرورت ہو اور سائل بھی ڈاکٹر کے کمیشن کی وجہ سے دیگر میڈیکل سٹورز والوں کی بہ نسبت دوائیاں مہنگی نہ دیتا ہو ، اور نہ ہی ڈاکٹر کی طرف سے باقاعدہ اس کمیشن کا مطالبہ ہو بلکہ سائل اپنی مرضی و خوشی سے بطورِ ہدیہ (گفٹ) ڈاکٹر حضرات کو کچھ نہ کچھ دیتا ہو تو سائل کا اس طرح کچھ دینا اور ڈاکٹر کا وصول کرنا شرعاً جائز اور درست ہے، مگر محض کسی میڈیکل سٹور کی دوائیاں تجویز کرنے پر ڈاکٹر حضرات کیلئے کمیشن وصول کرنا جائز نہیں،جس سے اجتناب لازم ہے۔
کما فى بدائع الصنائع : و لو استأجرها للطبخ و الخبز ؛ لم يجز و لا يجوز لها أخذ الأجرة على ذلك ؛ لأنها لو أخذت الأجرة لأخذتها على عمل واجب عليها في الفتوى فكان في معنى الرشوة فلا يحل لها الأخذ ، اھ(24/4)۔
و فی الدر المختار : و أما الدلال فإن باع العين بنفسه بإذن ربها فأجرته على البائع و إن سعى بينهما و باع المالك بنفسه يعتبر العرف و تمامه في شرح الوهبانية .
و فی ردالمحتار : (تحت قوله : فأجرته على البائع) و ليس له أخذ شيء من المشتري ؛ لأنه هو العاقد حقيقة شرح الوهبانية و ظاهره أنه لا يعتبر العرف هنا ؛ لأنه لا وجه له. (قوله : يعتبر العرف) فتجب الدلالة على البائع أو المشتري أو عليهما بحسب العرف جامع الفصولين .(4/560)۔
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0