اجرت و کرایہ داری

تعلیمِ قرآن پر اجرت لینا

فتوی نمبر :
60734
| تاریخ :
2006-04-21
معاملات / مالی معاوضات / اجرت و کرایہ داری

تعلیمِ قرآن پر اجرت لینا

کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ تعلیمِ قرآن پر قرّاء حضرات اور حفّاظِ کرام کا اجرت لینا جائز ہے یا نہیں؟ دلائل کے ساتھ وضاحت فرمائیں، جبکہ ہمارے یہاں بعض وہ لوگ جو اپنے آپ کو سلفی وغیرہ کہلواتے ہیں، جو اس لینےدینے کی شدید مذمت اور اس کا عدمِ جواز ہونا بیان کرتے ہیں، براہ کرم مذاہبِ اربعہ کی معتمد کتب اور قرآن وحدیث سے اس مسئلہ کی وضاحت بیان کریں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

عند الجمہور تعلیم قرآن پر اجرت لینا بلاشبہ جائز و درست ہے ، احادیثِ مبارکہ اور صحابہ کرام کے طرزِ عمل سے بھی اس کے صحیح ہونے کی تائید ہوتی ہے، جیسا کہ حوالہ جات میں درج روایات سے معلوم ہوتا ہے، تاہم مذکور فرقہ کے لوگ جو دلائل دیتے ہیں اگر وہ تحریر کر کے ارسال کردئیے جائیں تو ان پر بھی غور کیا جا سکتا ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی صحيح البخاري: عن ابن عباس: أن نفرا من أصحاب النبي - صلى الله عليه وسلم - مروا بماء، فيهم لديغ أو سليم، فعرض لهم رجل من أهل الماء، فقال: هل فيكم من راق، إن في الماء رجلا لديغا أو سليما، فانطلق رجل منهم، فقرأ بفاتحة الكتاب على شاء، فبرأ، فجاء بالشاء إلى أصحابه، فكرهوا ذلك وقالوا: أخذت على كتاب الله أجرا، حتى قدموا المدينة، فقالوا: يا رسول الله، أخذ على كتاب الله أجرا، فقال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: «إن أحق ما أخذتم عليه أجرا كتاب الله»(7/ 132)۔
و فی صحيح مسلم: عن أبي سعيد الخدري، أن ناسا من أصحاب رسول الله - صلى الله عليه وسلم - كانوا في سفر، فمروا بحي من أحياء العرب، فاستضافوهم فلم يضيفوهم، فقالوا لهم: هل فيكم راق؟ فإن سيد الحي لديغ أو مصاب، فقال رجل منهم: نعم، فأتاه فرقاه بفاتحة الكتاب، فبرأ الرجل، فأعطي قطيعا من غنم، فأبى أن يقبلها، وقال: حتى أذكر ذلك للنبي - صلى الله عليه وسلم - فأتى النبي - صلى الله عليه وسلم - فذكر ذلك له، فقال: يا رسول الله والله ما رقيت إلا بفاتحة الكتاب فتبسم وقال: «وما أدراك أنها رقية؟» ثم قال: «خذوا منهم، واضربوا لي بسهم معكم»(4/ 1727)۔
و فی شرح النووي على مسلم: قَوْلُهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - (خُذُوا مِنْهُمْ وَاضْرِبُوا لِي بِسَهْمٍ مَعَكُمْ) هَذَا تَصْرِيحٌ بِجَوَازِ أَخْذِ الْأُجْرَةِ عَلَى الرقية بالفاتحة والذكر و أنها حلال لاكراهة فِيهَا وَكَذَا الْأُجْرَةُ عَلَى تَعْلِيمِ الْقُرْآنِ وَهَذَا مَذْهَبُ الشَّافِعِيِّ وَمَالِكٍ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ وَأَبِي ثَوْرٍ وَآخَرِينَ مِنَ السَّلَفِ وَمَنْ بَعْدَهُمْ وَمَنَعَهَا أَبُو حَنِيفَةَ فِي تَعْلِيمِ الْقُرْآنِ وَأَجَازَهَا فِي الرُّقْيَةِ الخ (14/ 188)۔
و فی نصب الراية: وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّهُ كَانَ يَرْزُقُ الْمُعَلِّمِينَ، ثُمَّ أَسْنَدَ عَنْ إبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ كَتَبَ إلَى بَعْضِ عُمَّالِهِ: أَنْ أَعْطِ النَّاسَ عَلَى تَعْلِيمِ الْقُرْآنِ، انْتَهَى كَلَامُهُ. (4/ 137)۔
و فی الدر المختار: ويفتى اليوم بصحتها لتعليم القرآن والفقه والإمامة والأذان. (6/ 55)۔
و فی حاشية ابن عابدين: (قوله ويفتى اليوم بصحتها لتعليم القرآن إلخ) قال في الهداية: وبعض مشايخنا - رحمهم الله تعالى - استحسنوا الاستئجار على تعليم القرآن اليوم لظهور التواني في الأمور الدينية، ففي الامتناع تضييع حفظ القرآن وعليه الفتوى اهـ (6/ 55)۔
و فی المغني لابن قدامة: وَمِمَّنْ أَجَازَ ذَلِكَ مَالِكٌ، وَالشَّافِعِيُّ. وَرَخَّصَ فِي أُجُورِ الْمُعَلِّمِينَ أَبُو قِلَابَةَ وَأَبُو ثَوْرٍ، وَابْنُ الْمُنْذِرِ؛ لِأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - زَوَّجَ رَجُلًا بِمَا مَعَهُ مِنْ الْقُرْآنِ مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَإِذَا جَازَ تَعْلِيمُ الْقُرْآنِ عِوَضًا فِي بَابِ النِّكَاحِ، وَقَامَ مَقَامَ الْمَهْرِ، جَازَ أَخْذُ الْأُجْرَةِ عَلَيْهِ فِي الْإِجَارَةِ، وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «أَحَقُّ مَا أَخَذْتُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا كِتَابُ اللَّهِ».(5/ 411)
و فیہ أیضاً: فَإِنْ أُعْطِيَ الْمُعَلِّمُ شَيْئًا مِنْ غَيْرِ شَرْطٍ، فَظَاهِرُ كَلَامِ أَحْمَدَ جَوَازُهُ. وَقَالَ، فِيمَا نَقَلَ عَنْهُ أَيُّوبُ بْنُ سَافِرِي: لَا يَطْلُبُ، وَلَا يُشَارِطُ، فَإِنْ أُعْطِيَ شَيْئًا أَخَذَهُ. (5/ 412)
و فی المدونة: قُلْتُ أَرَأَيْتَ إنْ اسْتَأْجَرْت رَجُلًا يُعَلِّمُ لِي وَلَدِي الْقُرْآنَ يُحَذِّقُهُمْ الْقُرْآنَ بِكَذَا وَكَذَا دِرْهَمًا؟ قَالَ: قَالَ مَالِكٌ: لَا بَأْسَ بِذَلِكَ.
قُلْتُ: وَكَذَلِكَ إنْ اسْتَأْجَرَهُ عَلَى أَنْ يُعَلِّمَ وَلَدَهُ الْقُرْآنَ كُلَّ شَهْرٍ بِدِرْهَمٍ أَوْ كُلَّ سَنَةٍ بِدِرْهَمٍ؟ قَالَ: قَالَ مَالِكٌ: لَا بَأْسَ بِذَلِكَ.
قُلْتُ: وَكَذَلِكَ إنْ: اسْتَأْجَرَهُ عَلَى أَنْ يُعَلِّمَ وَلَدَهُ الْقُرْآنَ كُلَّهُ بِكَذَا وَكَذَا؟ قَالَ: لَا بَأْسَ بِذَلِكَ. قَالَ: وَلَا بَأْسَ بِالسُّدُسِ أَيْضًا مِثْلُ قَوْلِ مَالِكٍ فِي الْجَمِيعِ.
قُلْتُ: فَإِنْ: اسْتَأْجَرْته يُعَلِّمُ وَلَدِي الْكِتَابَةَ كُلَّ شَهْرٍ بِدِرْهَمٍ؟
قَالَ: لَا بَأْسَ بِذَلِكَ.
قُلْتُ: وَهَذَا قَوْلُ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ مَالِكٌ فِي إجَارَةِ الْمُعَلِّمِينَ سَنَةً سَنَةً: لَا بَأْسَ بِذَلِكَ، فَاَلَّذِي يَسْتَأْجِرُهُ يُعَلِّمُ وَلَدَهُ الْكِتَابَةَ وَحْدَهَا لَا بَأْسَ بِذَلِكَ مِثْلُ قَوْلِ مَالِكٍ فِي إجَارَةِ الْمُعَلِّمِينَ سَنَةً سَنَةً. (3/ 430)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 60734کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • گھاس کاٹنے والے کو آدھی گھاس اجرت میں دینا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   اجرت و کرایہ داری 0
  • بقرہ عید پر گائے کھڑی کرنے کی پارکنگ لگانے کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   اجرت و کرایہ داری 0
  • حرام آمدن والے کو مکان کرایہ پر دینا

    یونیکوڈ   اجرت و کرایہ داری 0
  • کمپنی کے ملازم کا کمیشن لینا

    یونیکوڈ   اجرت و کرایہ داری 1
  • کمپنی کا مال فروخت کرنے پر کمیشن لینے کا حکم

    یونیکوڈ   اجرت و کرایہ داری 2
  • جرگہ کے منصفین کا ، فریقین کے درمیان فیصلوں پر اجرت لینا

    یونیکوڈ   اجرت و کرایہ داری 2
  • زیادہ ایڈوانس رقم کی وجہ سے کرایہ میں کمی کرنا

    یونیکوڈ   اجرت و کرایہ داری 0
  • تعلیمِ قرآن پر اجرت لینا

    یونیکوڈ   انگلش   اجرت و کرایہ داری 0
  • ایمازون پر ورچوئل اسٹینٹ کی حیثیت سے کام کرنا

    یونیکوڈ   اجرت و کرایہ داری 1
  • تعلیمِ قرآن پر اُجرت لینا

    یونیکوڈ   اجرت و کرایہ داری 0
  • کرایہ کی تعیین کا حق اور حقِ شفعہ مالک کا ہے یا کرایہ دار کا ؟

    یونیکوڈ   اجرت و کرایہ داری 0
  • امامت اور دیگر دینی امور و اعمال پر اجرت کا حکم

    یونیکوڈ   اجرت و کرایہ داری 3
  • بے ضابطگی کرنے پر ملازمین کی تنخواہوں سے کٹوتی کرنا

    یونیکوڈ   اجرت و کرایہ داری 0
  • ایزی پیسہ اور جاز کیش میں اضافی چارجز لینا

    یونیکوڈ   اجرت و کرایہ داری 2
  • نماز جنازہ کیلئے کسی امام کا مخصوص اجرت لینا کیسا ہے؟

    یونیکوڈ   اجرت و کرایہ داری 2
  • تعمیر سے پہلے بلڈنگ کرایہ پر دینا

    یونیکوڈ   اجرت و کرایہ داری 0
  • قسطوں پر گھر بیچنے کے بعد کرایہ کا حقدار کون ہوگا ؟

    یونیکوڈ   اجرت و کرایہ داری 1
  • کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا

    یونیکوڈ   اجرت و کرایہ داری 0
  • کمیشن ایجنٹ کا فریقین کو بتلائے بغیر اپنا کمیشن رکھنا

    یونیکوڈ   اجرت و کرایہ داری 1
  • غیر مسلم ٹھیکدار , جو کرپشن بھی کرتا ہو , اس کے پاس کام کرنا

    یونیکوڈ   اجرت و کرایہ داری 0
  • میڈیکل اسٹور والوں کو لائسنس کرایہ پر دینا

    یونیکوڈ   اجرت و کرایہ داری 0
  • قادیانی بچوں کو انگلش پڑھاکر فیس لینا

    یونیکوڈ   اجرت و کرایہ داری 0
  • ڈاکٹر کا مریض ریفر کرنے پر میڈیکل اسٹور والے سے کمیشن لینا

    یونیکوڈ   اجرت و کرایہ داری 0
  • کسٹمرز لانے پر اجرت لینے کا حکم

    یونیکوڈ   اجرت و کرایہ داری 0
  • دودھ کے لئے بھینس کرائے پر لینا

    یونیکوڈ   اجرت و کرایہ داری 0
Related Topics متعلقه موضوعات