مفتی صاحب ! میں نے اپنا گھر جو کہ چار منزلہ ہے ، ایک کروڑ دس لاکھ میں فروخت کیا , جس میں سے 50 لاکھ وصول کیے ہیں ، اور باقی کے ساٹھ لاکھ روپے کا دس مہینے کا ٹائم رکھا ہے ، چونکہ مکان کا قبضہ میرے پاس ہے ، جب ساٹھ لاکھ دس مہینے کے بعد دے گا تو قبضہ دونگا ، حضرت ! مکان کا تین منزل کا کرایہ دس مہینے میں تقریباً چار لاکھ روپے بنتا ہیں ، وہ چار لاکھ روپے کرایہ جس نے مکان لیا ہے ،اس نے ابھی تک ٹوٹل میں سے آدھی رقم بھی نہیں دی ہے ، کرایہ میں لینے کا حقدار ہوں یا خریدار ( جس نے 50 لاکھ روپے ادا کیے ہیں ) لینے کا حقدار ہے یا دونوں کے درمیان پرسنٹیج کے مطابق تقسیم ہوگا ؟ نیز ایک منزل میں میں خود رہائش پذیر ہوں ، اور تین منزل کرایہ پر دیے ہوئے ہیں ، دینِ اسلام کے مطابق رہنمائی فرمایئں عین نوازش ہوگی ۔
سائل نے جب اپنا مذکور مکان ایک کروڑ دس لاکھ میں فروخت کردیا تو مذکور مکان سائل کی ملکیت سے نکل کر مشتری(خریدار) کی ملکیت میں داخل ہو چکا ہے ، لہذا مذکور مکان سے حاصل ہونے والا کرایہ بھی خریدار کا حق ہوگا ، چنانچہ سائل کے لئے کرایہ اپنے استعمال میں لانا شرعاً جائز نہیں ، بلکہ مذکور خریدار کو لوٹانا یا باقی ماندہ رقم میں سے منہا کرنا لازم ہے۔
کما فی الھدایہ: قال البیع ینعقد بالایجاب و القبول (الی قولہ) واذا حصل الایجاب و القبول لزم البیع ولا خیار لواحد منھما الخ(کتاب۔البیوع۔ج3 ص19 )۔
وفی شرح المجلۃ: لا یجوز لاحد ان یتصرف فی ملک الغیر بلا اذنہ الخ (المادہ۔92 ص 61 )۔
و فی الموسوعۃ الفقھیۃ: ان یثبت للمشتری ملک ما یحصل فی المبیع من زیادۃ متولدۃ منہ ولو لم یقبض المبیع الخ(فصل۔البیع۔ج 9 ص63 )۔
وفی فقہ البیوع: وهل تثبت هذه الإجارة الجديدة من المشترى اقتضاء إن قال له البائع: "سلمت إليك الدار بأن تكون أجرتها لك منذ اليوم، وقبل ذلك المستأجر ؟ الظاهر: نعم، لأن مثل ذلك يعتبر قبضاً في عرف المستغلات. وقد ثبت في قوانين أكثر البلاد أن البائع إن باع داراً مؤجرة وسجلها باسم المشترى، فإن عقد الإجارة يتحول إلى المشترى بحكم القانون، فينفسخ عقد المستأجر مع البائع، وينعقد مع المشترى. وهذا دليل ثبوت الإجارة الجديدة اقتضاء بحكم العرف الخ(القبض فی الدار المؤجرۃ۔ج 1 ص 402)۔
وفی تنقیح الحامدیۃ: (سئل)فیما اذا کان لزید بستان جار فی ملکہ فآجرہ من عمرو مدۃ معلومۃ اجارۃ شرعیۃ و سلم الماجور ثم ان زیدا باع البستان من بکر ثم اجاز عمرو المستاجر البیع و رضی بہ فھل تنفسخ الاجارۃ وینفذ البیع فی حق الکل(الجواب)نعم(ج 2 ص 135)۔
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0