محترمی و مکرّمی جناب مفتی صاحب! السلام علیکم! جناب عالی گذارش یہ ہے کہ میں جس کمپنی میں کام کرتا ہوں، اُ س کے مینیجر نے کہا کہ اگر کوئی شخص کمپنی کو فائدہ پہنچائے گا تو کمپنی اُس کو انعام دے گی، کمپنی میں ایک ٹیگ بک چھپ کر آتی ہے جس کی قیمت سات روپے ہے، میرا چھوٹا بھائی کتاب چھاپنے کا کام کرتا ہے تو میں نےاپنے بھائی سے بات کی تو اس نے مجھ سے کہا کہ میں آپ کیلئے تین روپے میں کتاب چھاپ دوں گا،تو میں نے اپنے مینیجر سے کہا کہ میں آپ کو اپنے بھائی سے3.50 روپے میں کتاب چھپوا کر دوں گا تو وہ اس پر راضی ہو گئے،کیونکہ اُ نکو سات کے بجائے 3.50 روپے کی کتاب پڑتی تھی، اب معلوم یہ کرنا ہے کہ میں ایک کتاب پر پچاس پیسے رکھ رہا ہوں، کیا یہ میرے لئے جائزہے ؟ واضح ہو کہ میں کمپنی کا سینئر آفیسر ہوں،مذکور معاملے میں کتاب میرا بھائی چھاپے گا اور کمپنی چیک بھی اُسی کو دے گی ۔
صورتِ مسئولہ میں سائل چونکہ کمیشن ایجنٹ کی حیثیت سے کام کر رہا ہے، لہذا سائل کا متعاقدین کو بتائے بغیر ایک کتاب پر پچاس پیسے کا نفع رکھنا شرعاً درست نہ ہوگا، بلکہ بھائی جو بھی ریٹ دے، وہ کمپنی کو بتا دے اور اس پر سائل باہمی رضامندی سے کمپنی یا بھائی سے طے شدہ کمیشن لے لے تو شرعاً اس طرح معاملہ درست ہو جائے گا۔
کما الدر المختار: وأما الدلال فإن باع العين بنفسه بإذن ربها فأجرته على البائع وإن سعى بينهما وباع المالك بنفسه يعتبر العرف وتمامه في شرح الوهبانية۔اھ (560/4)
وفی رد المحتار: وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل، وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير۔اھ (63/6)
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0