السلام علیکم ! میرا سوال یہ ہے، کہ میں ایک پرچیزنگ ڈیپارٹمنٹ میں کام کرتاہوں، اور کمپنی کے لیے کچھ بھی سامان لیناہو تو سامنے والی کمپنی سے سامان خریدنے پر اگر وہ مجھے کمیشن دے، تو کیا یہ کمیشن جائزہے؟
سائل جب اس کمپنی کا ملازم ہے اور اس کی بنیادی ذمہ داری کمپنی کے لیے سامان کی خریداری ہے، اور اس کام کی باقاعدہ اسے تنخواہ بھی ملتی ہے، تو اس کے لیے کسی بھی کمپنی سے سامان خریدنے پر کمیشن لینا درست نہیں، بلکہ مال خریدنے پرفروخت کرنے والی کمپنی کی طرف سے جو ڈسکاونٹ ملے گی ، وہ سائل کی کمپنی (جس کمپنی کا وہ ملازم ہے) کا حق ہے، سائل کا اسے بطورکمیشن اپنے پاس رکھنا شرعا جائز نہیں۔
فی الشامیۃ:(4 / 560 )
وأما الدلال فإن باع العين بنفسه بإذن ربها فأجرته على البائع وإن سعى بينهما وباع المالك بنفسه يعتبر العرف وتمامه في شرح الوهبانية قوله (فأجرته على البائع) وليس له أخذ شيء من المشتري لأنه هو العاقد حقيقة شرح الوهبانية وظاهره أنه لا يعتبر العرف هنا لأنه لا وجه له ۔
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0