جناب میں نے ایک بیوپاری سے ایک بھینس لی جو کہ اس کی ملکیت ہے، اس نے وہ بھینس مجھے دس ماہ کےلۓ دی اور مجھ سے ستر ہزار وصول کیا ہے، دس ماہ مکمل ہونے پر وہ اپنی بھینس واپس لے جائے گا اس دوران اگر بھینس مرجاتی ہے تو وہ اس کی ہوگی , میں دس ماہ تک اس بھینس کا دودھ نکال کر فروخت کروں گا اور اس کے چارے کا اور اس بھینس کی دوائی وغیرہ پر خرچہ کروں گا، چاہے بھینس کے دودھ کی آمدنی سے مجھے ںفع یا نقصان ہو ، اگر اس دوران بھینس کو کچھ ہوتا ہے تو اس شخص کو بلا کر اس بھینس کو دکھا نا لازمی ہے، میرا سوال ہے کہ کیا اس بھینس کے دودھ کی آمدنی میرے لئے جائز ہے یا نہیں ؟
واضح ہو کہ کرایہ داری کا معاملہ درست ہونے کیلئے جملہ شرائط میں سے ایک شرط یہ بھی ہے کہ اس" معقود علیہ" کے باقی رہتے ہوئے اس سے انتفاع ممکن ہو ، جبکہ دودھ کو استعمال کرنے سے وہ ختم ہو جاتا ہے، اور اس کا عین باقی نہیں رہتا، لہذا سائل کیلئے دودھ حاصل کرنے کی غرض سے بھینس کرائے پر لینا شرعاً جائز نہیں جس سے احتراز لازم ہے، اور اس دودھ کو بیچ کر اب تک جو نفع حاصل ہوا ہے، اسکو اپنے استعمال لانا شرعاً جائز نہیں، بلکہ اصل مالک کو لوٹا دے۔
کما فی الدر المختار : (الإجارة) قدم الهبة لكونھا تمليك عين ، و هذه تمليك منفعة (هي) لغةً اسم للأجرة و هو ما يستحق على عمل الخير و لذا يدعى به، يقال أعظم الله أجرك . و شرعاً (تمليك نفع) مقصود من العين (بعوض)۔اھ (3/6)۔
و فی بدائع الصنائع : و لا تجوز إجارة الشاة للبنھا أو سمنھا أو صوفها أو ولدها ؛ لأن هذه أعيان فلا تستحق بعقد الإجارة ، و كذا إجارة الشاة لترضع جديا أو صبيا۔اھ (4/ 175)۔
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0