کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام درج ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ :
ہماری کمپنی میں ملازمین نوکری پکی کرنے کے بعد ، بنا اطلاع دیے ملازمت چھوڑ کر چلے جایا کر تے تھے ، جس کی وجہ سے ہمیں بروقت اس کا م کے لئے ملازم نہ ملنے کی وجہ سے کام میں بہت حرج اور نقصان ہوا کرتا تھا ،جس کے بارہا تجربہ کے بعد ہم نے یہ پالیسی بنائی ہے کہ جو ملازم ملازمت چھوڑکر جانا چا ہتا ہے ،وہ دس سے چودہ دن پہلے اطلا ع دے دیا کرے ،پس جو شخص اطلاع دیے بغیر ملازمت چھوڑ کر جس مہینہ جا ئیگا ، تو اس ماہ میں اس نے جتنے دنوں کام کیا ہو ، ان دنوں کی رقم روک لی جائیگی ،ملازم کو نہ ملے گی ، مثلاً کسی ملازم نے فروری کے چھ دنوں کام کرکے اپنی ملازمت بنا اطلا ع دیے چھوڑ دی ،اسے ان فروری کے چھ دنوں کی رقم نہ ملے گی ، یاد رہے کہ ملازم کو یہ پالیسی پہلے سے بتلائی جاتی ہے ،اور وہ اس سے اتفاق کرتے ہوئے نوکری شروع کر تا ہے ،اور اب ہمارے ہاں اسی پالیسی پر عمل کیا جاتا ہے ،تو اب سوال یہ ہے کہ ایسے ملازم جو ملازمت بنا اطلاع دیے چھوڑ جائے ا ن کی رقم روک لینا شرعاً درست ہے یا نہیں ؟ اگر نہیں تو اس کا متبادل کیا ہوسکتا ہے ؟
کسی ادارے یا کمپنی کا ملازم کو ملازمت چھوڑنے کی صورت میں دس سے چودہ دن پہلے اطلاع دینے کا پابند بنانا شرعاًدرست ہے ، اور ملازم پر حسبِ معاہدہ اس ضابطہ پر عمل کرنا بھی شرعاً لازم ہوگا ،تا ہم اگر ملازم خلافِ ضابطہ بلا کسی عذر کے اطلاع دیے بغیر کا م چھوڑ کر چلاجائے ،تو ایسا کرنے سے اسے معاہدہ کی پاسداری نہ کرنے کا گناہ تو ہوگا ،لیکن محض اس وجہ سے ادارے کا ملازم کی تنخواہ سے رقم ضبط کرنا " تعزیر بالمال "(مالی جرمانہ ) ہونے کی وجہ سے جائز نہیں ، لہذا اس سے اجتناب لازم ہے۔
تاہم اس طرح بنا اطلاع دیے ملازموں کا ملازمت چھوڑنے کی وجہ سے اگر کمپنی کو واقعی نقصان ہوتا ہو ، تو کمپنی متبادل کے طور پر یہ پالیسی بنا سکتی ہے کہ ایسےمستقل ملازمین جنہیں دیگر اداروں میں جانے کے لئے اور اچھے عہدہ پر تعیناتی کے لئے کارگردگی و تجربہ سرٹیفکیٹ کی ضرورت ہوتی ہے ، تو ادارہ ان کا سرٹیفیکٹ اطلاع دینے اور کمپنی کی جانب سے نئی تعیناتی تک کام کرنے پر موقوف کردیں، جبکہ دیگر عام درجہ کے ملازم کی تقرری کے وقت اس کے ساتھ یہ معاہدہ کریں کہ ملازم خود اس بات کا التزام کرے کہ اگر وہ ادارہ کی پالیسی کے مطابق طے شدہ ایام سے قبل اطلاع دیے بغیر اپنا کام چھوڑ کر جائیگا ، تو وہ ادارہ کے پاس جمع شدہ رقم میں سے اتنی رقم ادارے کی توسط سے خیر کےکاموں میں صدقہ کرے گا ، اس کے لئے ادارہ کے اند ر ایک باقاعدہ الگ شعبہ قائم کردیا جائے ، جو اس بات کا تعین کرے کہ اس صدقہ کی رقم کو کن وجوہِ خیر میں شرعی اصولوں کے مطابق خرچ کیا جائیگا، تاہم کمپنی کے لئے یہ رقم اپنی ذاتی استعمال میں لانا یا کسی دوسرے ملازم کو بطورِ تنخواہ دینا جائز نہ ہوگا۔
کما فی احکام القرآن للجصاص : قال ابوبکر یحتج بہ فی ان کل من الزم نفسہ عبادۃ او قربۃ و اوجب علی نفسہ عقدا لزمہ الوفاء بہ اذ ترک الوفاء بہ یوجب ان یکون قائلا ما لایفعل و قد ذم اللہ فاعل ذالک و ھذا فیما لم یکن معصیۃ فاما المعصیۃ فان ایجابھا فی القول لا یلزمہ الوفاء بھا و قال النبی ﷺ لا نذر فی معصیۃ و کفارتہ کفارۃ یمین و انما یلزم ذالک فیما عقدہ علی نفسہ ممایتقرب بہ الی اللہ عز و جل مثل النذور و فی حقوق الادمیین العقود التی یتعاقدونھا اھ (3/442)۔
و فی اعلاء السنن : التعزیر بالمال جائز عند ابی یوسف و عندھما و عند الائمۃ الثلاثۃ لایجوز ، و ترکہ الجمہور للقرآن و السنۃ و اما القرآن فقولہ تعالی (( فاعتدو ا علیہ بمثل مااعتدی علیکم))و اما السنۃ فانہ علیہ السلام فضی بالضمان بالمثل و لانہ خیر یدفعہ الاصول فقد اجمع العلماء علی ان من استھلک شیئا لم یغرم الامثلہ او قیمتہ اھ (11/733)۔
و فی رد المحتار تحت : (قولہ و لابیع بشرط) و فی جامع الفصولین ایضا : لو ذکرا البیع بلاشرط ثم ذکرا الشرط علی وجہ العقد جاز البیع و لزم الوفاء بالوعد اذ المواعید قد تکون لازمۃ فیجعل لازما لحاجۃ الناس تبایعا اھ (5/84)-
و فیہ ایضا : و بہ افتی فی الخیریۃ و قال : فقد صرح علمائنا بانھما لو ذکرا البیع بلا شرط ثم ذکرا الشرط علی وجہ العدۃ جاز البیع و لزم الوفاء بالوعد اھ قلت فھذا ایضا مبنی علی خلاف ما مر تصحیحہ و الظاھر انھما قولان مصححان اھ (5/84)-
و فی شرح المجلۃ للاتاسی : و ان ذکرا البیع من غیر الشرط ثم ذکرا الشرط علی وجہ المواعدۃ قد تکون لازمۃ فتجعل لازمۃ لحاجۃ الناس اھ (2/415)-
و فی البحوث فی القضایا الفقہیۃ المعاصرۃ : و اما اذا التزم انہ ان لم یوفہ حقہ فی وقت کذا فعلیہ کذا و کذا لفلان او صدقۃ للمساکین (الی قولہ)و اما علی اصل الحنفیۃ فان الوعد غیر لازم فی القضاء لکن صرح فقہاء الحنفیۃ با ن بعض المواعید قد تجعل لازمۃ لحاجۃ الناس (الی قولہ) یجوز ان ینص فی عقود المداینۃ مثل المرابحۃ عند المماطلۃ بالتصدق بمبلغ او نسبۃ بشرط ان یصرف ذلک فی وجوہ البر بالتنسیق مع ھیئۃ الرقابۃ الشرعیۃ للمؤسسۃ اھ (1/38)-
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0