السلام علیکم۔۔
میں اپنا مکان کرائے پر دینا چاھتا ھوں۔ جس کا کرایہ ماھانا دس ھزار روپے ھے لیکن چونکہ مجھے کرایہ دار چھ لاکھ ایڈوانس دیگا جو میں اسی مکان کو بنانے میں خرچ کروںگا مگر کرایہ دار ماھانا کرایہ دس ھزار کے بجائے چار ھزار دےگا اور میں یہ ایڈوانس کی رقم جو کہ چھ لاکھ ھوگی پانچ سال میں واپس کرنے کا پابند ھوںگا۔
معزز استاد صاحب ماھانا دس ھزار کے بجائے چار ھزار کرایہ لینا درست ھے؟ اس میں حرام یا سود تو نھیں ھوگا؟
صورت مسئولہ میں سائل جس مکان کو کرایہ پر دیکر ایڈوانس رقم وصول کرناچاہتاہے، تو وہ مکان تیاراور رہائش کےقابل ہے یا نہیں؟ اگررہائش کے قابل ہے، تو اس ایڈوانس سے اس کی تعمیر کی کیاصورت ہے؟ اور اگررہائش کے قابل ہی نہیں تو ایسی صورت میں جب تک یہ مکان تعمیر ہوکر رہائش کے قابل نہیں بنتا، اس وقت تک کسی کے ساتھ کرایہ داری کا معاملہ کرکے اس سے کرایہ وصول کرنا شرعادرست نہیں۔
البتہ اگرسائل کسی شخص کے ساتھ کرایہ داری کا محض وعدہ کرکے اس سے کچھ رقم بطورایڈوانس وصول کرکے اس سے یہ مکان تعمیر کرلیتاہے، اور مکان تیارہونے کے بعد باقاعدہ کرایہ داری کا معاملہ کرتاہے، اگرچہ اس طرح معاملہ کرنا شرعا درست ہوگا۔ تاہم اس صورت میں بھی چونکہ ایڈوانس وصول کی جانے والی رقم کی حیثیت قرض کی ہے اور قرض کے بدلے کسی بھی طرح نفع حاصل کرنا شرعاجائز نہیں، اس لیے کرایہ دار کا اپنے قرض کے بدلے مارکیٹ ریٹ کے بجائے کم قیمت پر مکان کرایہ پر لینا قرض کے بدلے نفع لینے کی وجہ سے سودی معاملہ ہے۔ جوشرعاناجائز اور حرام ہے، اس لیے اس اجتناب لازم ہے۔
المبسوط للسرخسي (14/ 35)
”نهى رسول الله – صلى الله عليه وسلم – عن قرض جر منفعة» وسماه ربا“
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 166)
”وفي الأشباه كل قرض جر نفعا حرام فكره للمرتهن سكنى المرهونة بإذن الراهن“
النتف في الفتاوى (1/ 484)
”انواع الرِّبَا واما الرِّبَا فَهُوَ ثَلَاثَة اوجه احدها فِي القروض وَالثَّانِي فِي الدُّيُون وَالثَّالِث فِي الرهون…فاما فِي القروض فَهُوَ على وَجْهَيْن احدها ان يقْرض عشرَة دَرَاهِم باحد عشر درهما اَوْ بِاثْنَيْ عشر وَنَحْوهَا وَالْآخر ان يجر الى نَفسه مَنْفَعَة بذلك الْقَرْض اَوْ تجر اليه وَهُوَ ان يَبِيعهُ الْمُسْتَقْرض شَيْئا بارخص مِمَّا يُبَاع اَوْ يؤجره اَوْ يَهبهُ… وَلَو لم يكن سَبَب ذَلِك هَذَا الْقَرْض لما كَانَ ذَلِك الْفِعْل فان ذَلِك رَبًّا وعَلى ذَلِك قَول ابراهيم النَّخعِيّ كل دين جر مَنْفَعَة لَا خير فِيهٌِ “اھ
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0