کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے گاؤں میں ایک امام صاحب جو جنازہ پڑھاتے ہیں، ان کی ہر جنازہ پڑھانے پر اُجرت مختص ہے، یعنی بچے کیلئے علیحدہ اور بڑے جنازے کی علیحدہ اُجرت مختص ہے، اس صورت میں یہ اجرت امام کیلئے جائز ہے یا ناجائز ہے؟
قرآن و حدیث کی روشنی میں واضح فرمائیں، واضح رہے کہ یہ اُجرت ہر خاص و عام کیلئے مقرر ہے، جو اسے دینی ہوتی ہے، جبکہ نہ دینے کی صورت میں امام صاحب ناراض ہوجاتے ہیں۔
اگر کوئی دوسرا شخص بھی نمازِ جنازہ پڑھانے کیلئے موجود ہو تو اس صورت میں نمازِ جنازہ پڑھانا ، مذکور امام کے ذمہ لازم اور متعین نہیں ، اس لئے اسپر اُجرت لینے کی گنجائش ہے، جبکہ شخصِ مذکور کے باضابطہ امام ہونے کی بناء پر ،اس کا اجرت لینے سے احتراز ہی بہتر ہے۔
وفی الدر المختار : (والأفضل أن يغسل) الميت (مجانا، فإن ابتغى الغاسل الأجر جاز إن كان ثمة غيره وإلا لا) لتعينه عليه، وينبغي أن يكون حكم الحمال والحفار كذلك سراج الخ،
وفی رد المحتار تحت:(قوله لتعينه عليه) أي لأنه صار واجبا عليه عينا، ولا يجوز أخذ الأجرة على الطاعة كالمعصية، وفيه أن أخذ الأجرة على الطاعة لا يجوز مطلقا عند المتقدمين، وأجاز المتأخرون على تعليم القرآن والأذان والإمامة للضرورة كما بين في محله،(ج۲، ص۱۹۹)۔
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0