کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے محلہ میں چند (عثمانی فرقے کے) لوگ اس بات کی تبلیغ کر رہے ہیں کہ نماز پڑھانے ، یعنی امامت اور اسی طرح دیگر دینی امور کی تنخواہ وصول کرنا حرام ہے اور استدلال کے طور پر قرآن مجید سے یہ آیت پیش کرتے ہیں: ’’وَلَا تشتروا بآیاتی ثمناً قلیلًا۔الآیۃ‘‘ اور انہوں نے کافی لوگوں کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے ، قرآن و حدیث کی روشنی میں اس مسئلہ کا مکمل وضاحت فرمائیں ، تاکہ لوگوں کی تشویش اور نفرت ختم ہوجائے۔
قرونِ اولیٰ سے لیکر اسلامی خلافت کے اختتام تک ائمہ ،مدرسین ،مؤذنین او ر قاضی وغیرہ دینی امور پر مامور حضرات کیلئے بیت المال سے و ظائف مقرر تھے ، اگر دینی امور پر اجرت لینا ناجائز ہوتا تو صحابہ کرام اور خلفائے راشدین کبھی اس کا ارتکاب نہ کرتے، اور خلفائے راشدین کا عمل امت کیلئے مشعلِ راہ ہے ، کیونکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد مبارک ہے ’’علیکم بسنتی و سنۃ الخلفاء الراشدین‘‘ (مشکوۃ المصابیح:1/30) کہ میرے اور خلفائے راشدین کے طرزِ عمل کو لازم پکڑو ، اس کے علاوہ بھی دینی امور پر اجرت لینا صحیح اور صریح احادیثِ مبارکہ سے ثابت ہے ، اس لۓ اب بھی باتفاق ائمہ مجتہدین کے ، ان ذمہ داریوں کی اجرت لینا جائز ہے جس کی بناء پر اس کےحاملین دوسرے دنیوی امور انجام دینے سے قاصر ہیں ۔
مخالفین جس آیت کو مذکور اجرت کے عدمِ جواز پر بطورِ دلیل پیش کرتے ہیں ، اس آیت کے سیاق و سباق میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکور اجرت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے ، بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی آیات و احکام میں دنیا کی لالچ اور حرص کی وجہ سے تحریف اور کتمان (یعنی اصل حقیقت کو چھپانے) کے بارے میں نازل ہوئی ،جیسا کہ اس کے بعد والی آیت﴿و لا تلبسوا الحق بالباطل وتکتموا الحق و انتم تعلمون﴾ (البقرة: 42)سے واضح ہو رہا ہے۔
مذکور آیت کے تحت تفسیر روح المعانی میں ہے :
و قد استدل بعض اہل العلم بالآیۃ علی منع جواز أخذ الأجرۃ علی تعلیم کتاب اللہ تعالی و العلم ، (الی قولہ) ولا دلیل فی الآیۃ علی ما ادعاہ اھ(1/ 247)۔
ترجمہ:بعض اہلِ علم نے اس آیت سے کتاب اللہ اور علمِ دین کی تعلیم پر اجرت کے ناجائز ہونے پر استدلال کیا ہے، حالانکہ ان کے دعویٰ پر اس آیت میں کوئی دلیل نہیں۔
اسی طرح تفسیر ابنِ کثیر میں ہے :
﴿و لا تشتروا بآیاتی ثمناً قلیلا﴾ یقول: لاتعتاضوا عن الایمان بآیاتی و تصدیق رسولی بالدنیا و شہواتھا اھ (1/114) ۔
میری آیات پر ایمان لانے اور میرے رسول کی تصدیق کرنے کے عوض میں تم دنیا اور اس کی لذتوں کو مت لو۔
ذیل میں ایک دو روایتیں نقل کی جارہی ہیں جو تعلیمِ قرآن پر اجرت لینے میں صریح ہیں ، ملاحظہ ہو :
نمبر1۔ ففی صحیح البخاری : فقال رسول اللہ - صلی اللہ علیہ و سلم - ان احق مااخذتم علیہ اجراً، کتاب اللہ (2/854) ۔
ترجمہ : جن کا موں پر تم اجرت، لیتے ہو ان میں سے کتاب اللہ (کی تعلیم و تعلم) پر سب سے زیادہ اجرت لینے کا حق ہے۔
(2)۔ و فی نصب الرایۃ : ان عمر بن الخطاب کتب الیٰ بعض عمالہ ان اعط الناس علیٰ تعلیم القرآن اھ(4/137)۔
ترجمہ: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے بعض عاملوں کو لکھا کہ جو لوگ قرآن کریم کی تعلیم دینے میں مصروف ہیں، ان کو وظائف جاری کرو۔
چنانچہ مذکورہ بالا نصوصِ شرعیہ اور تفسیرِ قرآن کی روشنی میں امامت و خطابت اور تعلیمِ قرآن پر مامور حضرات کا اپنے مشغولئیِ اوقات کی بناء پر وظیفہ اور تنخواہ وغیرہ کا لینا اور انہیں دینا ہر دو امور شرعاً جائز اور درست ہیں، اس میں کسی قسم کی کوئی قباحت نہیں ، لہٰذا مذکور فرقہ کا آیاتِ قرآن کریم کی غلط تفاسیر بیان کرکے عوام میں اختلاف و انتشار پھیلانا قطعاً درست نہیں ،اور نہ ہی کسی مسلمان کی شان کے لائق ہے ، اس لۓ ان پر لازم ہے کہ اپنے مذکور ناجائز اور غلط طرزِ عمل سے احتراز کریں ، ورنہ بروزِ قیامت بازپرس سے سبکدوشی نہ ہو سکے گی۔
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0