کیا فرماتے ہیں مفتیان صاحبان میرا ایک گھاس کا کھیت ہے اس میں تقریباً 1000 بنڈل گھاس ہوتی ہے۔ ایک آدمی سے میری بیع ہوئی کہ یہ گھاس کاٹ کر سنبھال لو ساری گھاس سنبھال لینے پر آپ کو آدھی گھاس اجرت دونگا۔ وہ اس پر راضی ہوا تو یہ گھاس آدھی یعنی 50 سے تھوڑا کم یا زیادہ (45، 55) مجھ کو اور اتنا ہی اس کو ملا۔
سوال: (۱) کیا یہ معاملہ ٹھیک ہے؟
سوال: (۲) یہ گھاس ہم دونوں پر حلال ہیں؟
سوال: (۳) اگر حلال نہیں تو کیا ہے مکمل حرم ہے یا اور کچھ؟ یہ مجہولیت، دھوکہ اور اَن دیکھی بیع بھی نہیں ہے۔
اگر سائل نے شخص مذکور سے یہ طے کیا تھا کہ اسی گھاس میں سے آدھی گھاس آپ کو اجرت کے طور پر دوں گا تو پھر یہ معاملہ شرعاً جائز نہیں ہوا، کیونکہ یہ قفیز طحّان کے زمرے میں آتاہے جس سے احادیث مبارکہ میں ممانعت وارد ہوئی ہے، لہٰذا اس صورت میں سائل پر شخصِ مذکور کے لیے اجرتِ مثل لازم ہوگی اور گھاس ساری کی ساری سائل کی ہوگی۔
تاہم اس کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ معاملہ کرنے سے پہلے ہی اجرت طے کرلی جائے یا پھر مطلق اجرت طے کی جائے، خاص اس گھاس میں سے طے نہ کی جائے، پھر بعد میں چاہے اسی گھاس میںسے اجرت دے دے یا کسی اور سے۔
ففی حاشیۃ ابن عابدین: (قولہ للطحان) أی لمسألۃ قفیز الطحان وہی کما فی البزازیۃ أن یستأجر رجلا لیحمل لہ طعاما أو یطحنہ بقفیز منہ فالإجارۃ فاسدۃ، ویجب أجر المثل لا یتجاوز بہ المسمی. (قولہ: لأنہ منصوص) أی عدم الجواز منصوص علیہ بالنہی عن قفیز الطحان ودفع الغزل إلی حائک فی معناہ. (۵/ ۲۸۰) واللہ اعلم بالصواب
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0