اگر کوئی غیر مسلم ٹھیکیدار کے لئے کام کر رہا ہے، اور ٹھیکیدار کبھی کبھی کرپشن کرتا ہے،لیکن ہم اپنا کام ایمانداری سے کریں، تو کیا ہماری تنخواہ متاثر ہوتی ہے؟
اگر سائل اپنا جائز کام ایمانداری کے ساتھ سر انجام دے ،اس میں کسی بھی قسم کی کمی کوتاہی سے کام نہ لے تو سائل کیلئے اپنے کام کے بدلہ تنخواہ وغیرہ لینا جائز ہے ،ٹھیکدار کے کرپشن کی وجہ سے سائل کی تنخواہ پر اثر نہیں پڑے گا ۔
کما فی فقہ البیوع : و الذي يظهر من هذا التفصيل أنه لو أعطى أحداً بهبة أو شراء قدر ما في المخلوط من الحلال ، جاز للآخذ أن ينتفع به ، لأن التصدق بالكل إنما كان على سبيل التورع ، و لم يكن الواجب إلا إخراج قدر الحرام . (2/1029)-
و فی رد المحتار :(قوله اكتسب حراما إلخ) توضيح المسألة ما في التتارخانية حيث قال : رجل اكتسب مالا من حرام ثم اشترى فهذا على خمسة أوجه : اما إن دفع تلك الدراهم إلى البائع أولا ثم اشترى منه بها أو اشترى قبل الدفع بها و دفعها ، أو اشترى قبل الدفع بها و دفع غيرها ، أو اشترى مطلقا و دفع تلك الدراهم ، أو اشترى بدراهم أخر و دفع تلك الدراهم . (الی قولہ) و قال الكرخي : في الوجه الأول و الثاني لا يطيب ، و في الثلاث الأخيرة يطيب ، و قال أبو بكر : لا يطيب في الكل ، لكن الفتوى الآن على قول الكرخي دفعا للحرج عن الناس اهـ .(5/235)۔
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0