کیا فرماتے ہیں علماءِ حق مندرجہ ذیل مطلوبہ مسئلہ کے بارے میں کہ قرآن پڑھانے ، پڑھنے پر بطورِ عوض کچھ لینا خلافِ کتاب ہے ، اور استدلال پکڑتے ہیں ’’ولا تشتروا بایاتیْ ثمناً قلیْلًا‘‘ سے ، جب اجماعِ مجتہدین کا کہا جائے کہ بقدرِ ضرورت لینے میں حرج نہیں، تو کہتے ہیں یہ زیادتی ہے نصِّ صریح پر ، یہ تحریف فی القرآن کا مترادف ہے ، لہٰذا دینِ محمدیﷺ کی روشنی سے مسئلہ مذکورہ کو تمیز دیں۔
سوال میں مذکور آیت کا یہ مطلب ہرگز نہیں ، جو سائل نے سمجھ لیا ہے اس لئے کہ اس آیت کے سیاق و سباق پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس ممانعت کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کی مرضی اور ان کی اغراض کی خاطر ﷲ تعالیٰ کی آیات کا مطلب ، غلط بتلاکر یا ان کا صحیح مطلب چھپاکر اپنی خواہشات کو دخل انداز کرکے ، لوگوں سے پیسے بٹورے جائیں اور یہ فعل باجماعِ امت حرام ہے۔
البتہ یہ معاملہ کہ کسی کو احکامِ خداوندی کی طرف صحیح راہنمائی کرنے یا اسے علومِ دینیہ پڑھا نےپر اس سے اجرت لینا کیسا ہے ؟ تو اس کا تعلق آیتِ مذکورہ سے نہیں ، چنانچہ فقہاءِ امت کا اس میں اختلاف ہے ، امام مالکؒ ، امام شافعیؒ اور امام احمد بن حنبلؒ جائز قرار دیتے ہیں، امام اعظم ابوحنیفہؒ اور بعض دوسرے آئمہ اس کے عدمِ جواز کے قائل ہیں ، کیونکہ رسول ﷲ ﷺ نے قرآن کو کسبِ معاش کا ذریعہ بنانے سے منع فرمایا ہے ، لیکن متأخرین فقہاءِ حنفیہ نے بھی جب ان حالات کا مشاہدہ کیا ، کہ قرونِ اولیٰ میں قرآن مجید کے معلمین کو بیت المال سے وظائف ملا کرتے تھے ، مگر اب ہر جگہ اسلامی نظام میں فتور کے سبب ان معلمین کو عموماً کچھ نہیں ملتا ، یہ لوگ بھی اگر اپنے معاش کے لئے ، کسی محنت مزدوری یا تجارت وغیرہ میں لگ جائیں گے ، تو آنے والی نئی نسل کیلئے تعلیمِ قرآن کا سلسلہ بالکل بند ہوجائے گا ، کیونکہ درس و تدریس تو دن بھر کا مشغلہ چاہتا ہے ، اس بناء پر ان حضرات نے تعلیمِ قرآن پر تنخواہ لینے کو ، بضرورت جائز قرار دیا ، لہٰذا اب اسی پر فتویٰ دیا جاتا ہے کہ تعلیمِ قرآن اور ایسے ہی بعض دوسرے دینی و علمی وظائف جن پر تعلیمِ قرآن کی طرح دین کی بقاء موقوف ہے ، مثلاً امامت و آذان اور تعلیمِ حدیث و فقہ وغیرہ جیسے مہتم بالشان جتنے بھی شعبے ہیں ، ان میں مشغول حضرات کو کچھ مشاہرہ وغیرہ دیا جائے تاکہ دین کی بقاء ہوسکے ، نیز یہ بھی یاد رہے کہ یہ وظیفہ ان حضرات کی تعلیم وغیرہ کی اجرت ہرگز نہیں ہے ، بلکہ یہ تو ان کے تفریغِ اوقات کا معاوضہ ہے، جس کے لینے یا دینے میں کسی قسم کی کوئی قباحت نہیں ، باقی تعلیم کا صلہ اور عوض تو در حقیقت تو ﷲ تعالیٰ کی ذاتِ عالی ہی دے سکتی ہے اور کسی کی کوئی مجال نہیں کہ وہ اس عظیم نعمت کا کسی کو معاوضہ دے سکے۔
و فی البحر : و الفتوی الیوم علی جواز الاستیجار لتعلیم القرآن و ھذا مذہب المتأخرین من مشائخ بلخ ؛ استحسنوا ذالک ، و قالوا بنی اصحابنا المتقدمون الجواب علٰی ما شاہدوا من قلۃ الحفاظ و رغبۃ الناس فیہم ؛ و لان الحفاظ و المعلمین کان لہم عطایا فی بیت المال ، و افتقادات من المتعلمین فی مجازات التعلیم من غیر شرط ، و ھذا الزمان قل ذلک و اشتغل الحفاظ بمعائشہم فلو لم یفتح لہم باب التعلیم بالاجر لذہب القرآن فأفتوا بالجواز ، و الأحکام تختلف بإختلاف الزمان الخ(ج۸،ص۱۹)۔
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0