پروڈکٹ بیس کمپنی ہے، اور اس کمپنی کا مقصد صرف پروڈکٹ فروخت کرناہے، جن لوگوں کے ذریعہ یہ مال فروخت ہوتاہے، کمپنی اس کو تیس فیصد کمیشن دیتی ہے، اور وہ بھی اپنی طرف سے، کسی ممبرسے اس کی کٹوتی نہیں ہوتی۔
واضح ہو کہ کسی بھی کاروبار اور معاملہ کے بارے میں جواز یا عدم جواز کا حکم بیان کرنے کے لیے اس کاروبار کی پوری نوعیت ، معاہدہ اور طریقہ کارکا جاننے ضروری ہوتاہے، اس کے بغیر اس بارے میں کوئی حکم شرعی بیان نہیں کیاجاسکتا، جبکہ سائل نے مذکورکمپنی اور بروکرکے درمیان ہونے والے معاہدہ اور طریقہ کار کی تفصیل بیان نہیں کی تاکہ اسی کے مطابق جواب دیاجاتا،
تاہم عمومی طوپر کسی بھی حلال اور جائز پروڈکٹ کو فروخت کرتے ہوئے بروکری کی اجرت (کمیشن) لینا شرعاجائز اس شرط کے ساتھ جائز اور درست ہے، کہ کمیشن کی مقدار معلوم اور متعین ہو، خواہ یہ تعین کسی معلوم رقم کے صورت میں ہو، کہ مال فروخت کرنے کی صورت میں بروکر کو اتنی رقم ملے گی، یا فروخت کی جانے والی چیز کی معلوم اور متعین کردہ قیمت میں سےاتنا فیصد کے اعتبارسے طے کیاگیاہو۔ بشرطیکہ یہ اس معاملہ میں دیگر مفاسد شرعیہ جیسے نیٹ ورک مارکیٹنگ یا دیگر غیرشرعی امورشامل نہ ہو۔
فی الشامیۃ:(6/ص:63 )
وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام۔ اھ
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0