السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ !
جناب مفتی صاحب ایک شخص ایم فل یا پی ایچ ڈی کا طالب علم ہے، وہ کسی دوسرے شخص پر اپنا مقالہ اجرت کے عوض لکھ سکتا ہے؟ حال یہ ہے کہ اجرت لینے والا سب کچھ کرے گا، اجرت دینے والے کو تیار مقالہ پیسوں کے عوض ملے گا، وہ اس پر اپنی ڈگری حاصل کرسکے گا، شرعی نقطۂ نظر سے یہ اجرت لینا کیسا ہے؟
جو شخص ایم فل یا پی ایچ ڈی کر رہا ہو، اس پر اپنا مقالہ خود لکھنا لازم ہے، کسی سے اپنا مقالہ لکھوانا اور اس کی ڈگری حاصل کرنا دھوکہ دہی اور جعل سازی ہے، جوکہ گناہ ہے اور ایسے شخص کیلئے مقالہ تیار کرکے دینا مذکور گناہ میں براہِ راست معاونت ہونے کی وجہ سے شرعاً بھی جائز نہیں، جس سے احتراز لازم ہے۔
کما فی تفسیر ابن کثیر: وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ الآیۃ
یامر تعالیٰ عبادہ المؤمنین بالمعاونة علیٰ فعل الخیرات وھو البر، وترك المنکرات وھو التقوی، وینھاھم عن التناصر علیٰ الباطل والتعاون علیٰ المآثم والمحارم اھ(ص/106)-
وفی المشکوة: عن ابی ھریرة ان رسول اللہ ﷺ مر علیٰ صبرة طعام فادخل یدہ فیھا فنالت اصابعه بللاً فقال: ما ھذا یا صاحب الطعام قال اصابته السماء یا رسول اللہ ﷺ قال: افلا جعلته فوق الطعام حتیٰ یراہ الناس من غش فلیس منی (1/287)۔
وفی الدر المختار: کل ما ادی الیٰ مالایجوز، لایجوز الخ (6/360)۔
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0