کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ بندہ ایک اسکول میں ٹیچر تھا ،اور ٹیچنگ کا سلسلہ اپریل سے شروع ہوا تھا، جب مئی کی تاریخ کو اسکولوں کی چھٹیاں ہوئیں، تو بندہ کو اسکول والوں نے صرف مئی کے پندرہ دنوں کی تنخواہ دی، جبکہ دوسرے ٹیچرز کو مئی کے ساتھ جون کی بھی پوری تنخواہ دی ،اور جولائی کی اگست میں دینگے اور اس کے ساتھ بندہ کو بغیر وجہ بتائے اسکول سے دستبردار بھی کیا گیا، سوال یہ ہے کہ بندہ اسکول والوں سے مئی اور جون، جولائی کی تنخواہ وصول کرنے کا حق رکھتا ہے ؟ جبکہ بندہ کو اسکول والوں نے اس وقت جبکہ بندہ ٹیچر لگا اپنی کوئی ایسی پالیسی بھی نہیں بتائی کہ نئے استاد کو جون، جولائی کی سیلری ملتی ہے یا نہیں ؟اور عرف عام میں بھی کوئی ایسی بات نہیں کہ نئے استاد کو جون جولائی کی سیلری نہ ملتی ہو، دوسرا سوال یہ ہے کہ اسکول والے بچوں سے فیسیں وصول کرتے ہیں، جس سے ٹیچروں کو تنخواہ دی جاتی ہے، اگر اسکول والے اپنی طرف سے کوئی ایسا قانون بنائے کہ نئے استاد کو جون جولائی کی سيلری نہیں دینگے تو یہ شریعت کی رو سے جائز ہے؟ جبکہ استاد کا گزر بسراسی تنخواہ پہ ہو؟
جاننا چاہیئے کہ ایام ِتعطیلات کی تنخواہ کے حقدار وہ اساتذہ ہوتے ہیں، جو تعطیلات کے بعد بھی اسکول میں پڑھائیں، جو اساتذہ چھٹیوں کے بعد خود یا اسکول انتظامیہ کے بے دخل کرنے سے اسکول کے ٹیچر نہ رہے ہوں، تو وہ چھٹیوں کے ایام کی تنخواہ کے حقدار نہیں، اس لئے سائل کو اسکول والوں نے تعطیلات کے وقت بتادیا تھا، تو اب اسکول انتظامیہ سے سائل کا مطالبہ درست نہیں، جس سے احتراز لازم ہے۔
في الدر المختار: بخلاف المدرسة حيث تقفل أصلا. وهل يأخذ أيام البطالة كعيد ورمضان لم أره وينبغي إلحاقه ببطالة القاضي. واختلفوا فيها والأصح أنه يأخذ؛ لأنها للاستراحة اھ (4/ 372)۔
وفي حاشية ابن عابدين: (قوله: وينبغي إلحاقه ببطالة القاضي إلخ) (إلی قوله) قلت: هذا ظاهر فيما إذا قدر لكل يوم درس فيه مبلغا أما لو قال يعطى المدرس كل يوم كذا فينبغي أن يعطى ليوم البطالة المتعارفة بقرينة ما ذكره في مقابله من البناء على العرف، فحيث كانت البطالة معروفة في يوم الثلاثاء والجمعة وفي رمضان والعيدين يحل الأخذ، وكذا لو بطل في يوم غير معتاد لتحرير درس إلا إذا نص الواقف على تقييد الدفع باليوم الذي يدرس فيه كما قلنا اھ (4/ 372)۔
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0