السلام علیکم!
کیا اپنے زیر ملکیت مکان کو یا اس کے کسی حصہ کو رینٹ (یعنی کرایہ )پر دیا جا سکتا ہے ؟ کیونکہ رینٹ فیکس ہوتا ہے، اور ماہوار ملتا رہتا ہے، جبکہ کرایہ دار کے مکان خالی کرنے کے بعد جگہ مالک مکان ہی کی ملکیت ہوتی ہے، کیا کرایہ کا آمدن سود نہیں؟
جی ہاں! اپنا مکان یا کوئی دوسری چیز کسی دوسرے کو کرایہ پر دے سکتے ہیں اور اس کرایہ کو اپنے استعمال میں بھی لانا جائز اور درست ہے، کیونکہ کرایہ ان منافع کا عوض ہے جو کرایہ دار نے محبوس کر کے اپنے تصرفات میں رکھ لیے ہیں ۔
ففي إعلاء السن: و روي مسلم عن ثابت بن الضحاك أن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهي عن المزارعة وأمر بالمواجرة، والاخبار في ذلك كثيرة وأجمع أهل العلم في عصر وكل مصر على جواز الإجارة اھ (۱۶/ ۱۵۱)
و في الفتاوى الهندية: ولو قال ملكتك منفعة داري هذه شهرا بكذا كانت الإجارة جائزة ولو قال آجرتك منفعة هذه الدار شهرا بكذا يجوز على الأصح كذا في خزانة المفتين اھ (4/ 409)
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0