السلام علیکم!
میرے اور میری بہن کے پاس ایک فلیٹ تھا جس کی مالیت ایک کروڑ آٹھ لاکھ روپے تھی۔ ہم نے وہ فلیٹ فروخت کر دیا، اور ہم دونوں کا حصہ چون چوّن لاکھ روپے تھا۔ میری والدہ نے مجھے چھ لاکھ روپے اور میری بہن کو بھی چھ لاکھ روپے دیے۔ میں نے ساٹھ لاکھ روپے کا ایک نیا گھر خرید لیا۔ اس دوران، چونکہ اس گھر کی کچھ ادائیگی باقی تھی، اس لیے ہمیں اس کا کرایہ بھی ملا۔
کیا مجھے اس کرائے میں سے آدھا رکھنے کا حق ہے، یا پھر پورا کرایہ میری بہن کا حق ہے؟
سائل کا سوال پوری طرح واضح نہیں تاہم سوال سے بظاہر جو سمجھ میں آرہا ہے وہ یہ کہ مشترکہ فروخت کردہ مکان کی کچھ ادائیگی باقی رہنے کی وجہ سے خریدار کی طرف سے کرایہ وصول ہو اہے ، اگر ایساہی ہےتو واضح ہو کہ مکان فروخت کی صورت میں ( چاہے قیمت کی ادئیگی باقی کیوں نہ ہو ) وہ بیچنے والے کی ملکیت سے نکل جاتا ہے جس کے بعد قیمت کی مکمل ادائیگی کر نے سے قبل تک اس کے لئے خریدار سے کرایہ لینا جائز نہیں ہو تا لہذا صورتِ مسئولہ میں وصول شدہ کرایہ خریدار کو واپس کرنا لازم ہے اور اگر اس کے علاوہ کوئی صورت ہو تو اس کو تفصیل سےلکھ کر دوبارہ ایمیل کریں ، ان شاء اللہ حکم شرعی سے بھی آگاہ کردیا جائے گا۔
كما فی درر الحکام فی شرح المجلۃ : وإذا تصرف المشتري بالمبيع قبل أداء ثمنه للبائع تصرفا قابلا للنقض فالحكم فيه على النحو المشروع سواء أكان ذلك قبل قبض المبيع أم بعد قبضه له وتصرفه به بدون إذن البائع. اھ( المادۃ ،253 للمشتری بیع المبیع لآخر ،ج:1 ص: 227 ،ناشر:دار الجیل)
وفی الہندیۃ: وأما حكمه فثبوت الملك في المبيع للمشتري وفي الثمن للبائع إذا كان البيع باتا وإن كان موقوفا فثبوت الملك فيهما عند الإجازة كذا في محيط السرخسي. اھ(الباب الاول فی تعریف البیع ورکنہ ،ج:3 ص: 3 ناشر : ماجدیہ)
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0