کیا فرماتے ہیں علمائے کرام کہ ایک شخص جو یہ کہتا ہے کہ ہمیں فلاں مدرسہ میں بوقتِ تدریس " فَادۡخُلِىۡ فِىۡ عِبٰدِىۙ ۞" کی تفسیر میں یہ پڑھایا گیا ہے کہ جب جنتی جنت میں اور جہنمی جہنم میں چلے جائیں گے تو اللہ تعالیٰ جہنم کو جنت میں داخل فرما دیں گے ، کیا یہ تفسیر منقول ہے ؟ اور کیا یہ صحیح ہے ؟
سوال میں آیت ” فادخلی فی عبادی و ادخلی جنتی “ کی تفسیر میں مذکور شخص کا اپنے استاد سے نقل کردہ مضمون یعنی کہ "اللہ جہنم کو جنت میں داخل فرما دیں گے" کسی بھی مستند تفسیر میں منقول نہیں اور نہ ہی اس قول و مضمون کی درج شدہ آیت سے کوئی مناسبت ہے۔
پھر واضح ہو کہ قرآن و حدیث کے بیشمار دلائل کی بنیاد پر اہلِ سنت و الجماعت کا عقیدہ ہے کہ جنت اور جہنم ہمیشہ کے لئے قائم رہیں گے، کبھی بھی ان کو اور ان میں داخل ہونے والوں کو اللہ تعالی فناء نہیں کریں گے ۔ جبکہ سوال میں نقل کیا جانے والا مضمون اس عقیدے کے بھی خلاف ہے، لہذا اسے درست سمجھنے اور اسے آگے دوسروں کے سامنے بیان کرنے سے احتراز لازم ہے۔
قال اللہ تبارک و تعالی: إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا وَظَلَمُوا لَمْ يَكُنِ اللهُ لِيَغْفِرَ لَهُمْ وَلَا لِيَهْدِيَهُمْ طَرِيقًاo إِلَّا طَرِيقَ جَهَنَّمَ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا وَكَانَ ذَلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرًاo(النساء، 4: 168، 169)۔
و فی صحیح مسلم: عن أبي سعيد. قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم "يجاء بالموت يوم القيامة كأنه كبش أملح (وزاد أبو كريب) فيوقف بين الجنة والنار (واتفقا في باقي الحديث) فيقال: يا أهل الجنة! هل تعرفون هذا؟ فيشرئبون وينظرون ويقولون: نعم. هذا الموت. قال ويقال: يا أهل النار! هل تعرفون هذا؟ قال فيشرئبون وينظرون ويقولون: نعم. هذا الموت. قال فيؤمر به فيذبح. قال ثم يقال: يا أهل الجنة! خلود فلا موت. ويا أهل النار! خلود فلا موت" قال ثم قرأ رسول الله صلى الله عليه وسلم: {وأنذرهم يوم الحسرة إذ قضي الأمر وهم في غفلة وهم لا يؤمنون} [19 /مريم /39] وأشار بيده إلى الدنيا.(باب النار یدخلھا الجبارون ج:4 ص:2188 ط: دار احیاء التراث العربی۔بیروت)۔
و فی شرح العقيدة الطحاوية: [الجنة والنار مخلوقتان وهما موجودتان الآن][الجنة والنار مخلوقتان وهما موجودتان الآن ولا تفنيان أبدا]
وقوله: (والجنة والنار مخلوقتان، لا تفنيان أبدا ولا تبيدان، فإن الله تعالى خلق الجنة والنار قبل الخلق، وخلق لهما أهلا، فمن شاء منهم إلى الجنة فضلا منه، ومن شاء منهم إلى النار عدلا منه، وكل يعمل لما [قد] فرغ له، وصائر إلى ما خلق له، والخير والشر مقدران على العباد) .
ش: أما قوله: إن الجنة والنار مخلوقتان، فاتفق أهل السنة على أن الجنة والنار مخلوقتان موجودتان الآن، ولم يزل على ذلك أهل السنة الخ (ج:2 ص:614 ط: مؤسسۃ الرسالۃ۔بيروت)۔
آیت تطہیر کن مبارک ہستیوں کے بارے میں نازل ہوئی؟ اور اہل بیت میں شامل افراد
یونیکوڈ آیات کی تفسیر و تشریح 0سورۃ مائدہ کی آیت نمبر ۴۴ اور ۶۳ میں ’’احبار‘‘ اور ربانییون‘‘ سے کیا مراد ہے؟
یونیکوڈ آیات کی تفسیر و تشریح 0ولی کی اجازت کے بغیر نکاح سے متعلق آیت قرآنی اور حدیث میں تعارض کا دفعیہ
یونیکوڈ آیات کی تفسیر و تشریح 0ہفتہ کے دن شکار سے مطلق علیحدہ رہنے والی تیسری جماعت کے ساتھ کیا معاملہ ہوا؟
یونیکوڈ آیات کی تفسیر و تشریح 0’’قوّامون‘‘ کا ترجمہ ’’حاکم‘‘ سے کرنا -اسلام میں مرد و عورت کی برابری کا تصور
یونیکوڈ آیات کی تفسیر و تشریح 0ہاروت و ماورت نامی فرشتوں کو اللہ نے مخصوص کام کیلئے زمین پر مبعوث فرمایا
یونیکوڈ آیات کی تفسیر و تشریح 0’’الولد للفراش‘‘ اور ’’وَجَعَلْنا مِنَ الْماءِ کلَّ شَیءٍ حَیّ‘‘ میں ظاہری تعارض اور اس کا دفعیہ
یونیکوڈ آیات کی تفسیر و تشریح 0