کیا فرماتےہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ دین اسلام مرد اور عورت کی برابری میں کیا کہتا ہے؟ آیت ’’قوّامون‘‘ جس کا مفسرینِ کرام نے’’حاکم‘‘ سے ترجمہ کیا ہے، لیکن بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ ترجمہ صحیح نہیں، کیا یہ درست ہے؟ براہ کرم وضاحت فرمائیں۔
’’قوّام‘‘ کا معنی" کسی کام یا نظام کا چلانے والا" کے ہیں اور ایسے شخص کو حاکم کے لفظ سے تعبیر کیا جاتا ہے ، یہی وجہ ہے کہ آیت کریمہ کے ترجمہ میں جن لوگوں نے ’’حاکم‘‘ کے لفظ سے ترجمہ کیا ہے اسی معنیٰ کو ملحوظ رکھتے ہوئے کیا ہے اور یہی اس لفظ کا صحیح ترجمہ ہے جو لوگ اس ترجمہ کو غلط قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں وہ لغتِ عربی سے یقیناً جاہل اور ناواقف ہیں۔
اس کے بعد واضح ہو کہ اس نظامِ عالم کو چلانے کے لیے ربِّ کریم نے انسانوں کو اپنا خلیفہ بنا کر بھیجا اور اس کے دونوں فرد یعنی مرد و عورت کے لیے ان فطری صلاحیتوں کی بنیاد پر ان کی علیحدہ علیحدہ ذمہ داریاں اور کام متعین فرما دیئے ، عورت کی ذمہ داری گھریلو کام کاج اور اندرونِ خانہ رہ کر مرد کی ضرورت اور بچوں کی تربیت کرنا ، جبکہ مرد کی ذمہ داری ، بیرون کے کام کاج، ملک و ملت کا نظام چلانا اور خلافت و نبوت وغیرہ ہے، اگر کوئی شخص سنجیدگی اور انصاف پسندی سے کام لے تو اُسے بخوبی معلوم ہو سکتا ہے کہ مرد و عورت کی ذمہ داریاں الگ الگ ہیں اور مرد کو عورت پر حاکم بنایا گیا ہے، البتہ حدود و قصاص، بعض عبادات اور بعض معاشرتی مسائل میں مرد و عورت کے احکام یکساں ہیں، لہٰذا محض مغربی تہذیب و تمدّن کی بناء پر مرد و عورت کے حقوق میں یکسانیت کا دعویٰ کر کے عورت کو آزادی دیکر فحاشی و بے حیائی عام کرنے سے احتراز لازم ہے۔
ففی أحكام القرآن لابن العربي: ﴿الْآيَة السَّادِسَة وَ الْعُشْرُونَ قَوْله تَعَالَى الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ﴾ ِ بِمَا فَضَّلَ اللَّهُ بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ(إلی قوله) الْمَسْأَلَةُ الثَّانِيَةُ: قَوْلُهُ: ﴿َقوَّامُونَ﴾ (النساء: 34): يُقَالُ قَوَّامٌ وَ قَيِّمٌ، وَ هُوَ فَعَّالٌ وَ فَيْعَلٌ مِنْ قَامَ، الْمَعْنَى هُوَ أَمِينٌ عَلَيْهَا يَتَوَلَّى أَمْرَهَا، وَ يُصْلِحُهَا فِي حَالِهَا؛ قَالَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَ عَلَيْهَا لَهُ الطَّاعَةُ الخ (1/ 530)۔
و فی أحكام القرآن لظفر أحمد العثمانی: ﴿الرجال قوّامون علی النساء﴾ و وجوہ فضیلتھم علیھن القوام و القیم واحد والقوام أبلغ و ھو القائم بالمصالح و التدبیر و التأدیب و علل ذلك بأمرین وھبی و کسبی فقال بما فضل اللہ بعضھم علی بعضٍ یعنی فضل الرّجال علی النساء فی أصل الخلقة و کمال العقل و حسن التدبیر و بسطہ فی العلم والجسم و مزید القوة فی الأعمال و علوالإستعداد و لذلك خص بالنبوة و الإمامة و القضاء و ھذا امرٌ وھبیٌ ثم قال و بما انفقوا من أموالھم فی نکاحھن من المھور و النفقات الراقبة و ھذا أمرٌ کسبیٌ(۲/۲۵۸)۔
سورۃ مائدہ کی آیت نمبر ۴۴ اور ۶۳ میں ’’احبار‘‘ اور ربانییون‘‘ سے کیا مراد ہے؟
یونیکوڈ آیات کی تفسیر و تشریح 0آیت تطہیر کن مبارک ہستیوں کے بارے میں نازل ہوئی؟ اور اہل بیت میں شامل افراد
یونیکوڈ آیات کی تفسیر و تشریح 0ولی کی اجازت کے بغیر نکاح سے متعلق آیت قرآنی اور حدیث میں تعارض کا دفعیہ
یونیکوڈ آیات کی تفسیر و تشریح 0ہفتہ کے دن شکار سے مطلق علیحدہ رہنے والی تیسری جماعت کے ساتھ کیا معاملہ ہوا؟
یونیکوڈ آیات کی تفسیر و تشریح 0’’قوّامون‘‘ کا ترجمہ ’’حاکم‘‘ سے کرنا -اسلام میں مرد و عورت کی برابری کا تصور
یونیکوڈ آیات کی تفسیر و تشریح 0ہاروت و ماورت نامی فرشتوں کو اللہ نے مخصوص کام کیلئے زمین پر مبعوث فرمایا
یونیکوڈ آیات کی تفسیر و تشریح 0’’الولد للفراش‘‘ اور ’’وَجَعَلْنا مِنَ الْماءِ کلَّ شَیءٍ حَیّ‘‘ میں ظاہری تعارض اور اس کا دفعیہ
یونیکوڈ آیات کی تفسیر و تشریح 0