السلام علیکم
ایک شخص اپنی دکان( ٹھیہ ) فروخت کرنا چاہتا ہے جس کی اجازت مالک دکان نے دے رکھی ہے۔
یہ فروخت کرنے والا شخص میرے بیٹے جس کی عمر 20 سال ہے اس سے کہتا ہے کہ آپ میری دکان فروخت کروا دیں اس قیمت یعنی ایک قیمت مقرر کرتا ہے اور اس سے زیادہ جو قیمت ملے گی یعنی جو گاہک آپ لے کر آئیں گے وہ اس کی اجرت ہو گی اور وہ رقم آپکی ہو گی۔ بیٹا مجھ سے کہتا ہے جو شخص دکان کی خریداری کرنا چاہتا ہے اس سے رابطہ کیجئے ۔ مجھے اس شخص نے اپنی دکان کا معاملہ کرنے کی اجازت دے دی ہے تو کیا اس قسم کے کام میں کوئی طریقہ جائز یا ناجائز موجود ہے۔ رہنمائی فرمائیں ۔
سوال میں ذکر کردہ معاملہ وکالت کا ہے، یعنی دکان کے مالک نے سائل کے بیٹے کو وکیل بنا دیا ہے کہ وہ اس کے لیے خریدار تلاش کر دے اور اس کی اجرت وہ پیسے ہوں گے جو دکان کے مالک کی مطالبہ کردہ قیمت سے زائد ہوں گے۔ تو واضح رہے کہ اس معاملے میں چونکہ سائل کے بیٹے کے لیے کوئی اجرت معین نہیں کی گئی بلکہ مجہول ہے، کیونکہ زائد پیسوں کا آنا یقینی نہیں، اس لیے یہ معاملہ شرعاً درست نہیں اور اس سے احتراز لازم ہے۔ البتہ اگر اس طرح معاملہ کر لیں کہ کچھ اجرت متعین کر لی جائے، مثلاً 500 روپے، اور ساتھ میں کہہ دیا جائے کہ مطلوبہ قیمت سے زائد پیسے بھی تمہارے ہوں گے، تو اس طرح معاملہ کرنے کی صورت میں اگر دکان فروخت ہو جاتی ہے تو سائل کا بیٹا 500 روپے کا بہرصورت مستحق ہوگا۔ اور اگر مقررہ قیمت سے زائد پیسے آئے ہیں، تو ان پیسوں کا لینا بھی اس کے لیے جائز ہوگا۔ لہذا درست طریقے سے مذکورہ معاملہ سرانجام دینے کی کوشش کی جائے۔
کما فی رد المحتار تحت (مطلب في أجرة الدلال) [تتمة] قال في التتارخانية: وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل، وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم. وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام الخ( کتاب الاجارۃ ،ج: 06 ،ص: 63 ،ط: سعید )۔
و فی بحوث في قضايا فقهية معاصرۃ:وبجواز تحديد أجرة السمسرة بالنسبة المئوية أفتى كثير من متأخري الحنفية مثل مولانا الفقيه الورع الشيخ أشرف علي التهانوي رحمه الله تعالى الذي كان يعتبر من مقدمة الفقهاء الحنيفة في الهند ولا يخفى أن المؤونة والمشقة في السمسرة ربما لا تختلف بإختلاف الأثمان ومع ذلك جاز بناء أجرة السمسرة على النسبة المئوية عند هؤلاء الفقهاء, فيقاس عليه أجرة الأعمال الإدارية في مسألتنا لعدم الفارق بينهما.ولكن هذه النسبة المئوية لا بد أن تكون ضئيلة لا يرتاب في كونها رسم الخدمة ولا يجوز أن تتعدى أجرة مثل هذه الأعمال في حال من الأحوال وإلا صارت منفعة مجلوبة بالقرض وحراما دون أي تردد.(أجوبة عن استفسارات البنك الإسلامي للتنمية بجدة،ص:212 ،ط:دار القلم)
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0