کیا ہوٹل کا کاروبار کرنا حلال ہے یا حرام، جبکہ ہم مختلف لوگوں اور مختلف فرقوں کے افراد کو کمرے دیتے ہیں، اور وہ اپنے کمروں کے اندر جو بھی کرتے ہیں (اس کے ہم ذمہ دار نہیں ہوتے)؟
واضح ہوکہ ہوٹل کا کاروبار ازروئے شرع جائز اور حلال ہونے کیلئے یہ امر لازم ہے کہ ہوٹل بذاتِ خود کسی ناجائز یا فحاشی کے کاروبار کیلئے مخصوص نہ ہو، بلکہ وہ بطورِ مسافر خانہ عام مہمانوں کے قیام کیلئے چلایا جاتا ہوتو ایسی صورت میں سائل کایہ کاروبار جائز اور اس سے حاصل شدہ آمدنی حلال ہے،البتہ اگر کبھی کبھار ایسے مہمان آتے ہوں جو غیر شرعی تعلق کے ساتھ قیام کرتے ہوں،اور سائل نہ تو ان کے اس تعلق میں شریک ہو، اور نہ ان کی نیت جانتا ہو، اور نہ ہی ان کو اس غرض سے جگہ فراہم کرتا ہو،تو ان کا گناہ انہی پر ہوگا، سائل پر نہیں،تاہم اگر ہوٹل کی پالیسی یا طریقہ کار ہی فحاشی یا ناجائز تعلقات کو فروغ دینے والا ہو،تو ایسا کاروبار ازروئے شرع جائز اور حلال نہیں ،جس سے احتراز لازم ہے۔
کما فی الھدایۃ: قال: "ولا بأس ببيع العصير ممن يعلم أنه يتخذه خمرا"؛ لأن المعصية لا تقام بعينه بل بعد تغييره، بخلاف بيع السلاح في أيام الفتنة لأن المعصية تقوم بعينه.قال: "ومن أجر بيتا ليتخذ فيه بيت نار أو كنيسة أو بيعة أو يباع فيه الخمر بالسواد فلا بأس به" وهذا عند أبي حنيفة، وقالا: لا ينبغي أن يكريه لشيء من ذلك؛ لأنه إعانة على المعصية. وله أن الإجارة ترد على منفعة البيت، ولهذا تجب الأجرة بمجرد التسليم، ولا معصية فيه، وإنما المعصية بفعل المستأجر، وهو مختار فيه فقطع نسبته عنه اھ(فصل فی البیع،ج:4،ص:475،م:رحمانیۃ)
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0