السلام علیکم ورحمة الله وبركاته
محترم مفتیانِ کرام، دارالافتاء
اللہ تعالیٰ آپ حضرات کو جزائے خیر عطا فرمائے، ایک مسئلہ درپیش ہے:
ہمارے مدرسے میں تنخواہ وقت (Timing) کی بنیاد پر مقرر ہے۔ ایک معلمہ چلی گئی تو اس کے مضامین دوسری معلمات میں تقسیم کر دیے گئے۔
اب انتظامیہ نے اس چلی جانے والی معلمہ کی تنخواہ بھی انہی معلمات میں تقسیم کر دی ہے، حالانکہ وہ معلمات اپنے مقررہ وقت میں وہی پڑھاتی ہیں، ان پر اضافی وقت یا ڈیوٹی نہیں بڑھی۔
مزید یہ کہ اگر کوئی معلمہ تاخیر سے آئے یا چھٹی کرے تو بھی تنخواہ میں کٹوتی نہیں کی جاتی۔
سوال یہ ہے کہ:
کیا شرعاً ان معلمات کے لیے اس اضافی تنخواہ کو لینا جائز ہے؟
کیا انتظامیہ کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ اصل معلمہ کی تنخواہ دوسروں میں تقسیم کر دے جبکہ وقت و محنت میں اضافہ نہیں ہوا؟
برائے مہربانی اس مسئلے کی شرعی رہنمائی فرمائیں۔
جزاکم اللہ خیراً
والسلام
واضح ہو کہ کسی بھی ادارے میں کام کرتے وقت تنخواہ مقرر کرنے کا معیار وقت کے ساتھ ساتھ مفوضہ امور کی انجام دہی بھی ہوتی ہے، اور اس بنیاد پر کام کرنے والوں کی تنخواہوں میں فرق ہوتا ہے، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں سابقہ معلمہ نے جس قدر وقت ادارہ کو دیکر مفوضہ ذمہ داری پوری کی تھی، اس قدر وقت اور ذمہ داری کی طے شدہ رقم ادارے کواس معلمہ کو ہی دینا ضروری ہے، اس میں کچھ کمی کرنا یا اس معلمہ کو اس رقم سے مکمل طور پر محروم کرنا جائز نہیں، البتہ اس معلمہ کے جانے کے بعد اس سے متعلق مفوضہ امور اگر دوسری معلمات کے سپرد کردیئے جائیں، اس معاہدہ کے تحت کہ ان مفوضہ امور کی ادائیگی پر تنخواہ میں اضافہ بھی دیا جائے گا تو یہ شرعاً جائز و درست ہے، اور آئندہ ان مفوضہ امور کی ادائیگی پر وہ معلمات اس اضافہ کی حقدار بھی ہوں گی۔
كما في الهنديۃ: ثم الأجرة تستحق بأحد معان ثلاثة إما بشرط التعجيل أو بالتاجيل أو باستيفاء المعقود عليه فإذا وجد أحد هذه الأشياء الثلاثة فإنه يملكها، كذا في شرح الطحاوي. (كتاب الاجاره:الباب الثاني،ج:٤،ص:٤١٣، مط:ماجديه)
و فيہا ايضاََ: وأما في حق الأجير الخاص فلا يشترط بيان جنس المعمول فيه ونوعه وقدره وصفته وإنما يشترط بيان المدة فقط وبيان المدة في استئجار الظئر شرط الجواز بمنزلة استئجار العبد للخدمة. ومنها أن يكون مقدور الاستيفاء - حقيقة أو شرعا مط: (كتاب الاجاره:الباب الاول،ج:٤،ص:٤١١، مط:ماجديه)
و في شرح المجله: الاجير الخاص يستحق الاجرة اذ كان في مدة الاجارة حاضراً للعمل ولا يشترط عمله بالفعل . لكن ليس له ان يمتنع عن العمل واذا امتنع لا يستحق الاجرة. (الماده:٤٢٥،ج:٢،ص:٤٨٧،مط:مكتبه اسلاميه)
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0