اگر کسی بھی شخص کا کسی بھی سوشل میڈیا پر اکاؤنٹ ہے جس میں بہت سے رابطے ہیں اور وہ اس ایپ پر طویل عرصے سے ہے تو ہم اس کا اکاؤنٹ کرایہ پر لے سکتے ہیں۔ ہمارا مقصد صرف یہ ہے کہ ہم اس کے اکاؤنٹ سے فری لانسنگ لیڈز تیار کریں مثال کے طور پر (ویب سائٹ ڈویلپمنٹ، ایپ ڈویلپمنٹ دیگر خدمات وغیرہ) (کلائنٹس تلاش کریں)۔ یہ مکمل طور پر سرکاری کام ہے، اس میں کوئی دھوکہ یا دانو نہیں ہے، اکاؤنٹ کی ضرورت صرف اس لیے ہے کہ ہم اس کے کنکشنز سے لیڈز جنریٹ کر سکیں۔ اس سے یہ بھی بات ہوئی ہے کہ اگر ہم نام بدلنا چاہتے ہیں تو وہ کرے گا تاکہ کسی قسم کی دھوکہ دہی کا امکان نہ رہے اور ہم ایک مقررہ کرایہ طے کر لیں جو کم از کم غیر ضروری رقم ہو جو اسے دی جائے تو ایسا کرنا جائز ہے اور جس کو ہم اس کا کرایہ دیں گے، کیا یہ کرایہ حلال ہے یا جائز؟
اور وہ جب چاہے اپنا اکاؤنٹ واپس مانگ سکتا ہے اور اسے بغیر کسی شرط کے واپس کر دیا جائے گا۔
کیونکہ اکاؤنٹ کا مالک شخص یہ جواز پیش کرتا ہے کہ یہ میرا آن لائن اکاؤنٹ ہے اور یہ میرا غیر محسوس اثاثہ ہے، جس پر مجھے کم از کم کرایہ وصول کرنے کا حق ہے۔
واضح ہو کہ سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز میں جو شخص اپنا ذاتی اکاؤنٹ کھولتا ہے، تو پلیٹ فارمز اپنے صارفین کو چند شرائط کے ساتھ اس کے استعمال کرنےکااختیار دیتے ہیں،جن میں سے ایک شرط اس اکاؤنٹ کو کسی دوسرے فرد کو فروخت کرنے یا کرایہ پر دینے کی ممانعت بھی شامل ہے، جس کی صراحت کمپنی پالیسی میں بھی موجود ہے،اس لئے سائل کاکسی بھی شخص کا سوشل میڈیا اکاؤنٹ کرایہ پر لینا جائز نہیں، البتہ اگرسائل اپنے کاروبار کی تشہیر کے لئے اس اکاؤنٹ ہولڈر سے معاہدہ کر کے جائز مواد انہیں دیتے رہیں اور وہ اپنے اکاؤنٹ سے اس کی تشہیر کرتے رہیں اور اپنی محنت کی کمائی بھی وصول کرتے رہیں تو اس کی شرعاً بھی اجازت ہوگی۔
کما فی الدر المختار:وفي الأشباه لا يجوز الاعتياض عن الحقوق المجردة كحق الشفعة وعلى هذا لا يجوز الاعتياض عن الوظائف بالأوقاف الخ(باب الوقف،ج:4،ص:518،مط:ایچ ایم سعید)
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0