میں ایک گورنمنٹ ادارے میں کام کرتا ہوں، جب ہمیں کام کے لئے کسی دوسرے شہر میں بھیجا جاتا ہے جہاں رات کو قیام بھی کرنا ہوتا ہے ہمیں اختیار حاصل ہے کہ ہم کسی گیسٹ روم یا ہوٹل میں رہنے کا کرایہ وظیفہ وصول کریں، میرا سوال یہ ہے کہ اگر میں کام کے لئے کسی دوسرے شہر جاؤں ، لیکن اپنے کسی دوست یا رشتہ دار کے گھر قیام کروں تو کیا اس صورت میں، میں کرایہ وصول کر سکتا ہوں ؟ کیا یہ میرے لئے جائز ہے جبکہ میں کسی دوسرے شہر میں رات گزار رہا ہوں ۔
۲۔ ایک مقرر کردہ رقم ہماری تنخواہ میں سے کم کر دی جاتی ہے جو ہمیں ریٹائر منٹ کے بعد کچھ منافع کے ساتھ فنڈ کے طور پر ادا کی جائیگی ، ہم ریٹائرمنٹ کے وقت زیادہ منافع حاصل کرنے کے لئے اس رقم میں اضافہ بھی کر سکتے ہیں، ماہانہ ملنے والے منافع کی شرح مقرر نہیں ہے وہ ہر سال تبدیل ہوتی رہتی ہے، میرا سوال یہ ہے کہ کیا میں لازمی کم کیے جانے والی رقم کے علاوہ مزید رقم بڑھا سکتا ہوں ؟ کیا وہ منافع میرے لئے جائز ہوگا جو ریٹائرمنٹ کے وقت مجھے رقم کی صورت میں دیا جائیگا ۔
۔ اگر اُسے گیسٹ روم یا ہوٹل کا کرایہ کمپنی کی طرف سے بہر صورت دینا طے ہو، تو دوست کے گھر میں رہنے کے باوجود بھی اس کا لینا جائز ہے اور اگر رہائش کی تفصیل معلوم کر کے اور بتا کر پھر کرایہ دیا جاتا ہو تو اس صورت میں غلط بیانی کرکے کرایہ وصول کرنا جائز نہیں، اس سے احتراز لازم ہے ۔
2۔ اگر اس فنڈ کے لئے رقم کی کٹوتی قانوناً لازمی ہو تو اس میں اپنے اختیار سے اضافی رقم کٹوا کر بھی فنڈ سے نفع اندوز ہونا جائز ہے۔
كما في مشكاة المصابيح: وعن الحسن بن علي رضي الله عنهما قال: حفظت من رسول الله صلى الله عليه وسلم: «دع ما يريبك إلى ما لا يريبك فإن الصدق طمأنينة وإن الكذب ريبة» . رواه أحمد والترمذي والنسائي اھ (2/ 845)
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0