السلام علیکم!
میں ایمرائڈری فیکٹری کا مالک ہوں (کشیدہ کاری) میرے کارخانے میں کئی ایمرائڈری مشینیں لگی ہوئی ہیں ،میرے کارخانے میں میرے سر مائے کی تفصیل کچھ یوں ہے،
1:مشین ، 2: سٹاک مال یا مٹیر یل ، کپڑا اور دھاگہ وغیرہ پر مشتمل ہے ، مالیت تقریباً اسی لاکھ ہے ، 3: نقد رقم،4: کسٹمر پر میری ادھار ، 5:وینڈرز یعنی وہ دکان دار جن سے میں مال خریدتا ہوں ، یعنی واجب الاداء رقم۔
ان سب کی قیمت میں اندازاً سمجھانے کے لئے ترتیب دے رہاہوں
1: 13 عدد مشین ، 2: واجب الاداء رقم ”پچاس لاکھ “ 5000000 ، 3 : سٹاک کی رقم ” اسی لاکھ “ 8000000 ، 4: قابل وصو ل رقم تقریباً ” ایک کروڑ “10000000 ، 5: نقد رقم ” دس لاکھ 1000000 ۔
آپ حضرات سے سوال یہ ہے کہ میں اپنا یہ سیٹ اپ کرائے پر دینا چاہ رہا ہوں ، یعنی مجھے ہر مہینے میر ی تیرہ (13) عدد مشینوں کا کرایہ آجائے اس وجہ سے میں یہ سیٹ اپ کسی اور شخص کو ماہانہ فکس کرائے پر دینے کاخواہشمند ہوں ، جس کی تفصیل یہ کچھ یوں ہے:
1: یہ شخص مجھے ہر مہینے فی مشین مخصوص کرایہ مثلاً تین لاکھ ”3000000“ روپے دے گا ۔
2: کاروبار لین دین سے میرا کوئی تعلق نہ ہوگا ۔
3: نفع و نقصان سے میرا کوئی تعلق نہ ہوگا ۔
4: جو رقم لوگ مجھ سے مانگتے ہیں وہ یہ رقم میرے کسٹمر سے وصول کرکے میرے” وینڈرز“ کو ادا کرےگا۔
5: نئی لین دین ساری اس کے ذمہ ،اس سے میرا کوئی کام نہ ہوگا ۔
6: جو میری رقم نقد ، سٹاک یا ادھار شکل میں بچتی ہے یعنی باقی رہے گی وہ رقم میں اسے قرض حسنہ کے طور پر دوں گا ، اس رقم کا نہ نفع لوں گا ، اور نہ ہی نقصان لوں گا، میرے ذمہ واجب الاداء رقم ادا کرنے کے بعد باقی رقم مجھے آہستہ آ ہستہ لوٹا دیں ، اس رقم میں کوئی کمی بیشی نہ کریں ۔
7: اور اگر میر ے کسٹمر میں سے کوئی رقم نہیں دیتا تو وہ میرے ذمہ ہے ، اس کا نقصا ن کرایہ دار پر نہ ہوگا ۔
کیا ایسی لین دین جائز ہے؟
واضح ہوکہ عقدِ اجارہ کے صحت کے لئے ضروری ہے کہ عینِ مستأجر ہ ( جس چیز کو کرایہ پردیاگیا ہو) کو باقی رکھ کر منافع حاصل کیا جائے اور اس میں عقدِ اجارہ کے خلاف کوئی شرط بھی نہ پایاجائے ورنہ یہ معاملہ شرعا درست نہ ہوگا۔ لہذا صورتِ مسئولہ میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق اگر سائل اپنے مشینو ں سمیت اپنا خام مال او ر کاروبار کا مکمل سیٹ اپ کرایہ پر دینا چاہتا ہو جس میں کیش (واجب الاداء اور واجب الوصول) رقم بھی شامل ہے تواس مجموعی کاروبار کے اجارے کامعاملہ کرنا شرعاً جائز نہیں ، البتہ اس کی درست صورت یہ ہوسکتی ہے کہ سائل مذکور کرایہ دار کو اپنی مشینری ماہوار متعین کرایہ پر دیدے جبکہ خام مال قیمتاً کرایہ دار کو فروخت کرکے حسب معاہدہ اس رقم کی وصولی کی ترتیب بنادے ، تاہم مارکیٹ سے واجب الوصول رقم کی وصولی اورواجب الادا ء جگہوں پر اس کی ادائیگی کا معاملہ محض اگر کرایہ دار از راہ تبرع بطورِ وکیل سر انجام دینا چاہے تو اسے اختیار ہے، تاہم اس میں رقم کے ڈوب جانے کی صورت میں نقصان کا مطالبہ کرنے والوں کو اس کی بر وقت ادائیگی کا انتظام اور ذمہ داری سائل پر عائد ہوگی ، وکیل ( کرایہ دار ) اس کاضامن نہ ہوگا۔
کما فی البحر الرائق:( قولہ: ھی بیع منفعۃ معلومۃ باجر معلوم) یعنی الاجارۃ شرعا تملیک منفعۃ بعوض فخرج البیع و الھبۃ و العاریۃ و النکاح فانہ استباحۃ المنافع بعوض لا تملیکھا الخ ( کتاب الاجارۃ ، ج7 ، ص 297، ط: رشیدیۃ)
وفی الدر المختار: ( تفسد الاجارۃ بالشروط المخالفۃ لمقتضی العقد فکل ما افسد البیع )مما مر ( یفسدھا) کجاھلۃ ماجور او اجرۃ او مدۃ او عمل الخ
وفی الرد تحت ( قولہ: فکل) تفریع علی مقدر ای الاجارۃ نوع من البیع اذ ھی بیع المنافع الخ ( کتاب الاجارۃ، باب الاجارۃ الفاسدۃ ،ج 6، ص 46، ط: ایچ ایم سعید )
وفي البدائع ولا تجوز اجاره الدراهم والدنانير ولا تبرهما وكذا تبرا النحاس والرصاص ولا استئجار المكيلات والموزونات لانه لا يمكن الانتفاع بها الا بعد استهلاك اعيانهما والداخل تحت الاجاره المنفعه لا العين الخ ( کتاب الاجارۃ، فصل واما رکن الاجارۃ الخ، ج 4، ص 175، ط: ایچ ایم سعید)
وفي الفقه الاسلامي وادلته تعتبر يد المستاجر على العين المستاجره في اداره المنافع يد امانه فلا يضمن ما يتلف بيده الا بالتعدي او التقصير في الحفظ الخ ( القسم الاول العقود، الفصل الثالث عقد الاجارۃ، المبحث الخامس، ج 5، ص 3847،ط: رشیدیۃ)۔
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0