کیا فرماتےہیں علماءِ دینِ متین اور مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ موجودہ دور میں بینک کا تمام کا روبار سودی اور نا جائز ہے اور اس میں کام کرنے والے تمام ملازمین کی ملازمت ناجائز اور حرام ہے، مسئلہ یہ معلوم کرنا ہے کہ بینک کے چوکیدار اور گاڑی کے ڈرائیور کی تنخواہ حرام ہے یا نہیں ؟ دو سرا مسئلہ بیمہ پالیسی اور انشورنس کا ہے، شریعت کی رو سے ان کا کیا حکم ہے؟ انشورنس کا کاروبار کرنا کیسا ہے خواہ قانونی مجبوری کے تحت ہو یا باہمی رضا مندی سے ہو، اگر کوئی جواز کی صورت بنتی ہو تو ضرور بتلائیں ؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں مذکورہ دونوں مسئلوں کا مدلّل جواب عنایت فرمائیں ۔ جزاک اللہ خیراً
بینک کی وہ ملازمت جس کا تعلق براہِ راست سودی معاملات سے نہ ہو، نہ اس کا تعلق سود کے لکھنے سے ہو نہ سود پر گواہ بننے سے ہو اور نہ سودی معاملات میں کسی قسم کی شرکت ہوتی ہو جیسے چوکیداری کی ملازمت ، ایسی ملازمت اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی کے متعلق علماءِ کرام کی آراء مختلف ہیں۔
ایک رائے تو یہ ہے کہ بینک کی ایسی ملازمت جس کا سودی معاملات سے کسی قسم کا تعلق نہیں، یہ بھی جائز نہیں ،کیونکہ ایسے ملازمین کا اگرچہ سودی معاملات میں کوئی عمل دخل نہیں، لیکن انہیں جو تنخواہ دیجاتی ہے، وہ ان رقوم کے مجموعہ سے دیجاتی ہے جو بینک میں موجود ہوتی ہیں اور اس میں سود بھی شامل ہوتا ہے، اس لئے ایسی ملازمت بھی جائز نہیں ۔
جبکہ دوسری رائے یہ ہے کہ بینک کی ایسی ملازمت جس کا سودی معاملات سے کسی قسم کا تعلق نہیں ،یہ جائز ہے۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ان ملازمین کو جو تنخواہ دیجاتی ہے وہ اگر چہ ان ر قوم کے مجموعہ سے دیجاتی ہے جو بینک میں موجود ہوتی ہیں، لیکن بینک میں موجود ساری رقم سودی نہیں ہوتی ،بلکہ اس میں کئی قسم کی رقمیں مخلوط ہوتی ہیں ، یعنی وہ رقوم بھی ہوتی ہیں جو لوگوں نے اپنے کھاتوں میں جمع کروائی ہوتی ہیں، یعنی بینک نے وہ رقم قرض کے طور پر لی ہے اور وہ وہ رقوم بھی ہوتی ہیں جو بینک مالکان کا اصل سرمایہ ہے اور وہ رقوم بھی ہوتی ہیں جو بطورِ سود کے حاصل کی گئی ہیں ،لیکن بینک میں جمع رقوم اکثر پہلی دو قسم کی ہوتی ہیں اور آخری قسم کی رقوم ان کی بنسبت کم ہوتی ہیں، اس لئے بینک میں موجود اکثر رقوم حلال ہوتی ہیں، لہذا اگر اس مجموعی مخلوط رقوم سے ایسے ملازم کو تنخواہ دیجاتی ہے جس کا سودی معاملات سے کسی قسم کا تعلق نہیں، تو اس کے لئے ایسی ملازمت اور اس سے حاصل ہو نیوالی تنخواہ حرام نہیں۔ البتہ بہتر یہ ہے کہ بینک کی ایسی ملازمت بھی اختیار نہ کی جائے۔ اور کسی دوسرے حلال ذریعۂ معاش کو تلاش کرنے کے بعد بینک کی اس ملازمت کو چھوڑ دیں۔
۲۔ انشورنس کمپنیوں کا کاروبار اور پالیسی ایسی شرائط یہ پر مبنی ہوتی ہے جو شرعاً ناجائز اور حرام اور خالص سود کا موجب ہوتی ہیں، اس لئے انشورنس کمپنی کی کسی پالیسی میں شرکت نا جائز اور حرام ہے، البتہ (تھرڈ پارٹی انشورنس) جس کے بغیر گاڑی کا روڈ پر نکالنا قانوناً جرم ہے شرعاً ا س کی گنجائش ہے، اس کے علاوہ کی نہیں اور اس میں بھی بوقتِ حادثہ وغیرہ اتنی ہی رقم واپس لینے کی گنجائش ہےجتنی ماہانہ پریمیم کی شکل میں ادا کی جا چکی ہے۔
ففي الفتاوى الهندية: أهدى إلى رجل شيئا أو أضافه إن كان غالب ماله من الحلال فلا بأس إلا أن يعلم بأنه حرام فإن كان الغالب هو الحرام ينبغي أن لا يقبل الهدية ولا يأكل الطعام إلا أن يخبره بأنه حلال ورثته أو استقرضته من رجل كذا في الينابيع اھ (5/ 342)۔
كما قال تعالى فى القرآن المجيد: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ﴾ (البقرة: 278)-
وفي مشكاة المصابيح: عن جابر رضي الله عنه قال : لعن رسول الله صلى الله عليه و سلم آكل الربا وموكله وكاتبه وشاهديه وقال: "هم سواء" . رواه مسلم (2/ 134)۔
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0