کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ جو آج کل دکانداروں میں مروّج ہے جس کو عوامی اصطلاح میں’’ سر قلفی‘‘ کہا جاتا اور اس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ مثلا ًزید ایک دکان لینا چاہتا ہے عمرو سے کرایہ پر، اور دکان عمرو کی ذاتی ملک ہے، اب زید نے دکان کرایہ پر لے لیا۔ کچھ عرصے گزرنے پر زید نے دکان خالد کو اس شرط پر دی کہ خالد دو لاکھ رقم زید کو دے گا لیکن مذکورہ دو لاکھ رقم خالد کو کبھی کو واپس نہیں دیا جائیگا اور جو کرایہ زید عمر وکو دیتا تھا خالد کے ذمے میں آئیگا ،خالد دیتا رہے گا، اب سوال یہ ہے کہ مذکورہ دو لاکھ جو زید کو بلا عوض مال مل گیا۔ اب اس کا کیا حکم ہے؟ کیا یہ معاملہ شرعا ًجائز ہے ؟ مدلّل قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔
صورتِ مسئولہ میں مذکور عمل اگر دائمی کرایہ داری سے متعلق ہو تو اس حق ِکرایہ داری کا بیچنا جائز نہیں، البتہ اپنے حقِ کرایہ داری سے دستبرداری کے عوض ’’سر قلفی‘‘ کے نام سے کچھ رقم وغیرہ لینے کی گنجائش ہے ۔
کمافی الشامیۃ: (قوله: لا يجوز الاعتياض عن الحقوق المجردة عن الملك) قال: في البدائع: الحقوق المفردة لا تحتمل التمليك ولا يجوز الصلح عنها (الیٰ قولہ)لکن افتی کثیر باعتبارہ وعلیہ فیفتی بجواز النزول عن الوظائف بمال اھ(4/518)۔
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0