ایک بھینس جس کی اصل قیمت 10,000 روپے ہے، ایک آدمی نے وہ بھینس زید کے ہاتھ 20,000 روپے میں بیچ ڈالی ،چار ماہ کی رکھت پر (یعنی رقم چار ماہ کے بعد دے گا ، پھر زید نے وہی بھینس قبضہ کرنے کے بعد اس آدمی کے ہاتھ بیچ کر اسی وقت رقم وصول کر لی ۔ تو کیا شرعاً یہ عقد جائز ہے یا نہیں ؟ (۲) زید نے 1000 روپے کرایہ پر مکان لیا، جن میں سے 500 روپے اسی وقت ادا کیے ،اور 500 روپے تین دن بعد ادا کرنے کا وعدہ کیا، اور گھر کی چابی لیکر چلا گیا ،اور پھر چار دن کے بعد واپس آکر کہا کہ میرے 500 روپے واپس کرو، میں تمہارے مکان میں نہیں رہتا ۔ اب 500 روپے وصول شدہ اور 500 روپے بقایا کا حکم شرعی کیا ہے ؟
١۔ مذکور طرز پر عقد کرنا شرعاً درست نہیں ، اس سے احتراز لازم ہے۔
۲۔ اگر ایک ہزار روپے کرایہ کو کسی قسم کی شرط کیساتھ معلق کیے بغیر پورے مہینہ کا عوض ٹھہرایا ہو تو اس صورت میں مالک مکان کرایہ کی مذکورہ رقم سے فقط اتنی رقم کا حقدار ہے جو عقد اجارہ کے بعد گزرے ہوئے ایام کے عوض میں آتی ہے۔ بقیہ رقم کا واپس کرنا اس پر شرعاً لازم ہے اور اگر دورانِ عقد کسی قسم کی کوئی شرط ٹھہرا لی ہوتو مکمل وضاحت کرکے حکمِِ شرعی دوبارہ معلوم کیا جائے۔
ففي اعلاء السنن: فى هذه الاحاديث دلالة على كراهة العينة ولكن لم يقع تفسيرها في الحديث وقد فسر فى اثر ابن عباس رضی الله عنهما بأن يبيع الرجل حريرة بمائة ثم يشتريها بخمسين وهذا غير جائز عندنا إن كان البيع الثاني قبل نقد الثمن لأنه شراء بأقل مما باع قبل نقد الثمن اھ(۴/ ۱۷۰)۔
في الدر المختار: (فيجب الأجر لدار قبضت ولم تسكن) لوجود تمكنه من الانتفاع اھ (6/ 11) -
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0