کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ کیا کوئی اپنی زمین بھنگ کاشت کرنے کے لئے کسی کو بطورِ اجارہ دے سکتا ہے ؟ یا وہ خود اپنی زمین میں بھنگ کاشت کرسکتا ہے ؟ اس کے منافع کا کیا حکم ہے؟ کیا زمین کے مالک کے لئے یہ رقم استعمال کرنا جائز ہے؟
واضح ہو کہ بھنگ اور افیون وغیرہ کو نشہ کی غرض سے استعمال کرنا حرام ہے، اور مقدار نشہ سے کم افیون کا دوا میں استعمال جائز ہے، اور اسی مقصد کے لئے اگر حکومت وقت کی اجازت سے اس کی کاشت اور خرید وفرخت کی جائے تو اس کی گنجائش ہے، لہذا اگر کسی کے بارے میں معلوم ہو کہ وہ اس کو لہو ولعب، اور نشے کے لئے استعمال کریگا، تو اس کو بھنگ اور افیون کی کاشت کے لئے زمین دینا یا اس کو بھنگ وافیون بیچنا مکروہ تحریمی ہے، اور چونکہ بھنگ وافیون کا غالب استعمال لہو ولعب اور نشہ کے لئے ہی ہوتا ہے، اور حکومتِ وقت کی طرف سے بھی اس کی کاشت اور تجارت ممنوع ہے، اس لئے معاصر فقہاء نے اس کی کاشت کو ناجائز قرار دیا ہے، اور خرید وفرخت کو اس شرط کے ساتھ جائز قرار دیا ہے کہ نشہ آور امور میں اس کا استعمال نہ کیا جائے۔
کما فی الدرالمختار: (ويحرم أكل البنج والحشيشة) هي ورق القتب (والأفيون) لأنه مفسد للعقل ويصد عن ذكر الله وعن الصلاة (لكن دون حرمة الخمر، فإن أكل شيئا من ذلك لا حد عليه وإن سكر) منه (بل يعزر بما دون الحد) كذا في الجوهرة،الخ ( ج6 ص458 کتاب الأشربۃ ط سعید)
وفیہ ایضاً: (وصح بيع غير الخمر) مما مر، ومفاده صحة بيع الحشيشة والأفيون.قلت: وقد سئل ابن نجيم عن بيع الحشيشة هل يجوز؟ فكتب لا يجوز، فيحمل على أن مراده بعدم الجواز عدم الحل.الخ (ج6 ص454 کتاب الأشربۃ ط سعید)۔
وفی ردالمحتار: تحت (قوله وصح بيع غير الخمر) أي عنده خلافا لهما في البيع والضمان، لكن الفتوى على قوله في البيع، وعلى قولهما في الضمان إن قصد المتلف الحسبة وذلك يعرف بالقرائن، وإلا فعلى قوله كما في التتارخانية وغيرها.ثم إن البيع وإن صح لكنه يكره كما في الغاية الخ (ج6 ص454 کتاب الأشربۃ ط سعید)۔
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0