حضرات مفتیانِ کرام السلام علیکم !
میں ایک کمپنی میں ملازمت کرتا ہوں،وہاں کا قانون ہے تین دن دیر سے حاضر ہونے پر ایک دن کی دیہاڑی کاٹ دی جاتی ہے،جبکہ ہم فیکٹری کو تھوڑا وقت زیادہ بھی دیتے ہیں،کیا ایسا کرنا جائز ہے؟
واضح ہوکہ ملازمت کے مقررہ اوقات کی پابندی کرنا اور مفوضہ ذمہ داری دیانت داری کے ساتھ سرانجام دینا ایک ملازم کی بنیادی ذمہ داری میں شامل ہے،لہذا اگر کوئی ملازم وقت کی پابندی نہ کرے یا غیر حاضررہےتو اتنے وقت یا دنوں کی تنخواہ کاٹی جاسکتی ہے،اس سے زائد کاٹنا شرعاً جائز نہیں،چنانچہ صورتِ مسئولہ میں مذکور کمپنی والوں کے لئے تین دن کی تاخیر کی وجہ سے پورے ایک دن کی دیہاڑی کاٹنا درست نہیں، بلکہ غیر حاضری کے بقدر دیہاڑی کاٹنا جائز ہے،اس سے زیادہ کاٹنے کی صورت میں کمپنی والے گناہ گار ہونگے،جس سے بہر صورت احتراز لازم ہے۔
وفی الدرالمختار: والثاني) وهو الأجير (الخاص) ويسمى أجير وحد (وهو من يعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصيص ويستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل كمن استؤجر شهرا للخدمة أو) شهرا (لرعي الغنم) المسمى بأجر مسمى بخلاف ما لو آجر المدة بأن استأجره للرعي شهرا حيث يكون مشتركا إلا إذا شرط أن لا يخدم غيره ولا يرعى لغيره فيكون خاصا وتحقيقه في الدرر وليس للخاص أن يعمل لغيره، ولو عمل نقص من أجرته بقدر ما عمل فتاوى النوازل الخ (ج6 ص70 کتاب الاجارۃ ط: سعید)۔
وفی ردالمحتار تحت (قوله وليس للخاص أن يعمل لغيره) بل ولا أن يصلي النافلة. قال في التتارخانية: وفي فتاوى الفضلي وإذا استأجر رجلا يوما يعمل كذا فعليه أن يعمل ذلك العمل إلى تمام المدة ولا يشتغل بشيء آخر سوى المكتوبة وفي فتاوى سمرقند: وقد قال بعض مشايخنا له أن يؤدي السنة أيضا. واتفقوا أنه لا يؤدي نفلا وعليه الفتوى. وفي غريب الرواية قال أبو علي الدقاق: لا يمنع في المصر من إتيان الجمعة، ويسقط من الأجير بقدر اشتغاله إن كان بعيدا، وإن قريبا لم يحط شيء فإن كان بعيدا واشتغل قدر ربع النهار يحط عنه ربع الأجرة. الخ (ج6 ص70 کتاب الاجارۃ ط: سعید)۔
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0