آجکل آنلائن قرآن اکیڈمی والے قرآن پاک یا تفسیر بچوں کو پڑھانے کے لئے رابطہ کرتے ہیں ، لیکن وہ ایڈوانس میں پندرہ ہزار لیتے ہیں اور ایک بچے کی فیس پانچ ہزار ہوتی ہے اگر فیس زیادہ ہوگی تو زیادہ پیسے لیں گے ، مطلب جتنی ایک بچے کی فیس ہے تین مہینو ں کی فیس اکیڈمی والے ایڈوانس میں لیں گے ، کیا یہ ایڈوانس میں پیسے دے کے بچے لینا جائز ہے ؟ اور جائزطریقہ کون سا ہے؟ براہِ مہربانی راہنمائی فرمائیں۔
سائلہ نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ مذکور اکیڈمی والے کس مد میں سائلہ سے تین ماہ کی فیس وصول کرتے ہیں، تاکہ اس کے مطابق جواب دیا جاتا ، تاہم اگر مذکور اکیڈمی والے طلبہ مہیا کرنے پر سائلہ سے بطور اجرت تین ماہ کی فیس ایڈوانس لیکر مذکور طلبہ سائلہ کے حوالہ کر دیتے ہوں کہ جن کی پڑھائی اور فیس وغیرہ لینے کی ذمہ داری سائلہ پر ہو ، اکیڈمی والوں کا کوئی تعلق باقی نہ رہے تو اس طرح باہمی رضامندی سے معاملہ کرنا شرعاً درست ہے ، تاہم اگر سوال کی نوعیت مختلف ہو تو مکمل تفصیل کے ساتھ سوال لکھ کر دوبارہ ارسال کریں ، انشاء اللہ غور و فکر کے بعد حکمِ شرعی سے آگاہ کر دیا جائے گا ۔
كما في سنن أبي داود : عن أبي هريرة رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : الصلح جائز بين المسلمين زاد أحمد إلا صلحاً أحل حراما أو حرم حلالا و زاد سليمان بن داود و قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : المسلمون على شروطهم (ج 5، ص 446، رقم : 3594، ط : دار الرسالة العالمية)-
و في المبسوط للسرخسي : و إذا عقد العقد على أنه إلى أجل كذا بكذا وبالنقد بكذا (إلى قوله) فإن كان يتراضيان بينهما و لم يتفرقا حتى قاطعه على ثمن معلوم و أتما العقد عليه فهو جائز الخ ( باب البيوع الفاسدة ، ج ۱۳ ، ص 8 ، ح : مطبعة السعادة ، مصر )-
و في رد المحتار: تحت (قوله مع الماء) و في الحاوي : سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار ، فقال أرجو أنه لا بأس به و إن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل و كثير من هذا غير جائز ، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام الخ (مطلب في أجرة الدلال ، ج 6، ص 63، ط : سعید)-
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0