السلام علیکم! میں نے ایک صاحب کی جگہ ، اسکول چلانےوالے کو رینٹ پردلایاہےاورجب انہوں نے مجھے کہا تھاکہ میرا ایک مکان ہے، آپ اسکو کرایہ پر چڑھانےکی کوشش کریں، تو اس پر میں نے ان سے کہا تھاکہ میں 75000 ہزار لونگا آپ سے، جب آپ کا مکان کرایہ پر ہو جائے گا ،پھر انہوں نے کہا کہ میں 50000 دے سکتا ہوں ،تو میں نے کہا ٹھیک ہے ،تو حضور والا مجھے حکم فرمائیں کہ کیا میرے لئے یہ پیسے حلال ہیں ؟ جزاک اللہ خیرا
واضح ہو کہ کسی جائز کام کے کرنے پر طے شدہ معاوضہ لینا شرعاً جائز ہے، لہٰذا سائل اور مذکور مکان مالک کے درمیان اگر پہلے سے پچاس ہزار کی بات طے ہوگئی تھی اور سائل نے مذکور مکان کیلئے کرایہ دار تلاش کر کے دیدیا ہو تو سائل کیلئے اپنی اجرت لینا بلاشبہ جائز ہے۔
کما فی رد المحتار تحت (مطلب في أجرة الدلال) [تتمة] قال في التتارخانية: وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل، وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم. وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام الخ کتاب الاجارۃ ج 06 ص 63 ط: سعید )۔
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0