السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ ! تمام علماءِ کرام سے اس مسئلہ کا جواب مطلوب ہے ،حضرات علماءِ کرام !خالد نے زید سے ایک سال کیلئے پانچ لاکھ روپیہ میں دوکان کرایہ پر لی۔ 250,000 روپیہ اسی وقت ادا کیے اور باقی روپیہ دو مہینے میں ادا کرنے تھے ، خالد نے دوکان میں اپنا کام شروع کردیا ،لیکن کاروبار بہت ہی کمزور تھا ، کاروبار نہ چلنے کیوجہ سے خالد نے زید کو کہا کہ میں دوکان خالی کرنا چاہتا ہوں ،جواب میں زید نے کہا کہ میں نے تمہارے ساتھ پورے سال کی بات کی ہے ،اب تمہاری مرضی ہے کہ تم دوکان میں پورا سال کاروبار کرو یا پورا سال دوکان کو بند رکھو، مجھے دوکان سے کوئی لینا دینا نہیں ہے ، ایک سال کے بعد ہم بات کرینگے۔لیکن خالد نقصان برداشت نہیں کرسکتا تھا ، اس وجہ سے یہ دوکان 45 دن بعد نہ چلنے کیوجہ سے خالی کردی اور دوکان کی چابی مارکیٹ کے صدر صاحب کے حوالہ کرکے مارکیٹ کے صدر صاحب سے خالد نے یہ بات کہی کہ آپ زید کو اس بات سے آگاہ کردیں کہ خالد نے دوکان خالی کردی ہے اور چابی میرے حوالہ کی ہے ،آپ جب چاہیں مجھ سے چابی لے سکتے ہیں، مارکیٹ کے صدر نے زید کو دوکان کے خالی کرانے کی اطلاع دیدی، تو زید نے صدر صاحب سے یہ بات کہی کہ دوکان کو کرایہ پر دینے کیلئے کسی بندے کو ڈھونڈ لینا ، اگر کسی بندے کو ضرورت ہو تو مجھ سے رابطہ کرلینا ۔( یاد رہے اس دوران زید اپنے کاروبار کے سلسلے میں ملک سے باہر تھا )اس کے بعد زید نے خالد سے رابطہ کرکے اپنی شکایت کرنے کے بعد خالد سے بھی یہی بات کہی کہ آپ بھی دوکان کیلئے کوئی مناسب بندہ دیکھ لینا۔اس وجہ سے دوکان دو مہینے تک بند رہی۔پھر دو مہینے کے بعد کسی کو کرایہ پر دیدی۔اب مسئلہ یہ ہے کہ ان دو مہینوں کا کرایہ زید اُن 250,000 روپیہ میں سے کاٹ کر بقیہ روپیہ خالد کو دیگا یا زید 45 دن جو خالد نے دوکان میں گزارے تھے ، انکا کرایہ کاٹ کر بقیہ روپیہ خالد کو دیگا ؟جواب کا انتظار رہیگا جزاک اللہ خیرا
واضح ہو کہ عقدِ اجارہ میں واقعی عذر کی بنیاد پر فریقین میں سے ہر ایک کو عقد فسخ کرنے کا اختیار ہوتا ہے ،لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر واقعۃً خالد کا مذکور کاروبار بہت ہی کمزور تھا اور نقصان بھی برداشت نہیں کرسکتا تھا ، تو اس حالت میں خالد کو مذکور عقدِ اجارہ فسخ کرنے کا حق حاصل تھا ، چنانچہ جب خالد نے مذکور دکان 45 دن بعد نہ چلنے کی وجہ سے بند کرکے اس کی چابی مارکیٹ کے صدر صاحب کے حوالہ کردی اور صدر صاحب نے اس بات سے زید کو آگاہ کرنے کے بعد جب زید نے صدر صاحب کو دوسرے کرایہ دار ڈھونڈھنے کو بھی کہہ دیا تو یہ اس کی طرف سے اس عقد کو فسخ کرنے پر رضامندی شمار ہوگی ، لہذا اب زید کے لئے مذکور رقم (250000)میں سے صرف 45 دن کا کرایہ کاٹ کے بقیہ رقم خالد کو واپس کرنا لازم ہے۔
کما فی الھندیۃ: وإذا تحقق العذر ومست الحاجة إلى النقض هل يتفرد صاحب العذر بالنقض أو يحتاج إلى القضاء أو الرضاء اختلفت الروايات فيه والصحيح أن العذر إذا كان ظاهرا يتفرد، وإن كان مشتبها لا يتفرد الخ( ج 4 ص 458 ط:سعید)۔
وفیھا ایضا: استأجر حانوتا ليتجر في السوق ثم كسد السوق حتى لا يمكنه التجارة فله فسخ الإجارة لأنه عذر الخ( ج 4 ص 459 ط:سعید)۔
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0