السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ! کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے کالج کے ایک نہایت ہی محنتی،ایماندار ، مخلص اور با اعتماد استاد جو پرنسپل کی ذمہ داری بھی نبھا رہے ہیں , نے مجھ سے شام کے اوقات میں اکیڈمی چلانے کا معاہدہ کر رکھا ہے جس کی شرح 70-30 ہے ، جس دوران کالج کی ساری عمارت و وسائل انکے زیرِ استعمال ہوتے ہیں، طلبا و طالبات دونوں پڑھنے آتے ہیں ، میں ایک مدرسے میں پڑھاتا ہوں اور مہینے میں دو تین بار کالج جاتا ہوں ، کچھ طالبات کو کالج کے اوقات کے دوران ٹیوشن پڑھاتا ہوں، رہنمائی فرمائیں کہ کالج اوقات میں وصول کی گئی رقم، فیس کا کیا حکم ہے اور دیگر اخراجات مثلا بل، بجلی ،گیس، پانی ، صفائی کایہ وغیرہ مین تقسیم کا کیا حکم ہے؟
نوٹ: سائل کا ایک کالج ہے ، جس کو چلانے کے لئے اسٹاف رکھا ہوا ہے اور پرنسپل شام کے اوقات میں کالج میں ٹیوشن پڑھاتا ہے جس کی ستر فیصد آمدن خود لیتا ہے اور تیس فیصد سائل کو دیتا ہے، اب بعض طلبا شام کو ٹیوشن نہیں آسکتے اس لئے وہ صبح میں آتے ہیں جبکہ صبح کے وقت پرنسپل کالج چلانے پر مامور ہے ، جس کی وہ تنخواہ لیتا ہے ، اب صبح کے وقت ڈیوٹی ٹائم میں پرنسپل کا طلبا کو ٹیوشن پڑھانا اور اسکی فیس شام والے طلبا کے ساتھ ملا کر بتانا اور لینا صحیح ہے یا نہیں ؟
واضح ہو کہ ملازم کیلئے ڈیوٹی کے اوقات میں مفوضہ کام کے علاوہ مالک کی اجازت کے بغیر دوسرا کوئی کام کرنا اور اس پر اجرت لینا درست نہیں، جس سے احتراز لازم ہے ، لہذا صورتِ مسؤلہ میں مذکور پرنسپل کیلئے ڈیوٹی کے اوقات میں سائل کی اجازت کے بغیر ٹیوشن پڑھانا اور ان طلبہ کی فیس شام کے اوقات میں ٹیوشن والے طلبہ کے ساتھ ملا کر بتانا شرعاً جائز نہیں جس سے احتراز لازم ہے۔
کما فی الھندیۃ: يصح العقد على مدة معلومة أي مدة كانت قصرت المدة كاليوم ونحوه أو طالت كالسنين، كذا في المضمرات. ويعتبر ابتداء المدة مما سمى، وإن لم يسم شيئا فهو من الوقت الذي استأجرها، كذا في الكافي (إلی قولہ) وفی فتاوی الفضلی رحمہ اللہ تعالی إذا استأجر رجلا یوما لیعمل کذا فعلیہ أن یعمل ذلک العمل إلی تمام المدۃ ولا تشتغل بشیء آخر الخ (کتاب الإجارۃ الباب الثالث ج 4 صـ 416 ط: ماجدیۃ)
وفی الدر المختار: (والثاني) وهو الأجير (الخاص) ويسمى أجير وحد (وهو من يعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصيص ويستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل كمن استؤجر شهرا للخدمة أو) شهرا (لرعي الغنم) المسمى بأجر مسمى بخلاف ما لو آجر المدة بأن استأجره للرعي شهرا حيث يكون مشتركا إلا إذا شرط أن لا يخدم غيره ولا يرعى لغيره فيكون خاصا وتحقيقه في الدرر وليس للخاص أن يعمل لغيره، ولو عمل نقص من أجرته بقدر ما عمل فتاوى النوازل اھ (کتاب الإجارۃ ج 6 صـ 69-70 ط: سعید)
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0