ایک شخص پانی میسر نہ ہونے کی صورت میں تیمم کر کے غسل کے اعتبار سے پاک ہوا اور ایک نماز بھی ادا کر لی، مگر بعد میں پانی میسر ہوگیا، کیا اب اس کو پانی سے غسل کرنا پڑےگا اور نماز بھی قضا کرنا ہوگی؟
واضح ہو کہ تیمم درست ہونے کی تمام شرائط پائے جانے کے بعد اگر کوئی شخص تیمم کر کے نماز پڑھ لے تو اس کی نماز درست ادا ہوجائےگی، نماز پڑھنے کے بعد اگر پانی میسر آجائے تو نماز کا اعادہ لازم نہیں، تاہم اگر تیمم غسل کے لۓ کیا ہو اور اس کے بعد غسل کرنے کی بقدر پانی مل جائے تو اب اس کا تیمم ٹوٹ جائےگا، لہٰذا اس پر غسل کرنا شرعاً لازم ہوگا، ورنہ آئندہ اس کے بغیر نماز درست نہ ہوگی۔
فی مصنف ابن أبي شيبة: عن الحسن، أنه قال في متيمم مر بماء غير محتاج إلى الوضوء فجاوزه، فحضرت الصلاة وليس معه ماء، قال: «يعيد التيمم، لأن قدرته على الماء تنقض تيممه الأول» اھ (1/ 176)۔
وفی الفتاوى الهندية: ينقض التيمم كل شيء ينقض الوضوء كذا في الهداية وينقضه القدرة على استعمال الماء الكافي الفاضل عن حاجته. كذا في البحر الرائق. (إلی قوله) والأصل فيه أن كل ما منع وجوده التيمم نقض وجوده التيمم وما لا فلا. كذا في البدائع اھ (1/ 29)۔
سورۃ احزاب کی آیت نمبر۴۵ کو حضورؐ کی حاضر وناظر ہونے پر پیش کرنا، اور غصہ، نشہ، اور ایک ساتھ تین طلاق دینے کا حکم
یونیکوڈ تیمم 0سردی کے موسم میں غسل واجب ہوجاۓ تو تیمم اختیار کرنے کے لۓکسی سے گرم پانی طلب کرنے میں شرم و حیا کا عذر کرنا
یونیکوڈ تیمم 0عید کی نماز پڑھتے ہوۓ ، وضو ٹوٹنے کی صورت میں تیمم کا حکم-نعت ریکارڈنگ کے بیک گراونڈ میں "اللہ اللہ "کا ساونڈ لگانا
یونیکوڈ تیمم 0