کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ تیمم وضو کے علاوہ غسل کا بھی نائب بن سکتا ہے، یعنی پانی کی عدمِ موجودگی، یا استعمال پر قدرت نہ ہونے کی صورت میں، جنابت یا حیض ونفاس کے لۓ بجائے غسل کے تیمم کرنا درست ہے؟ اور اس کے ساتھ نماز پڑھنا جائز ہے؟ قرآن وسنت کی روشنی میں وضاحت فرمائیں۔
جی ہاں! تیمم غسل کا بھی نائب بن سکتا ہے اور پانی کی عدمِ موجودگی اس کے استعمال پر قدرت نہ ہونے یا اس کے استعمال سے بیمار ہونے یا بیماری کے بڑھ جانے کا اندیشہ ہو تو ایسی صورت میں جنابت اور حیض و نفاس سے پاکی کےلۓ بھی بجائے غسل کے تیمم کیا جا سکتا ہے۔
فی بدائع الصائع: وامّا بیان مایتیمم منه فهو الحدث والجنابة والحیض والنفاس وقد ذکرنا دلائل جواز التیمم من الحدث فی صدر فصل التیمم، وقد ذکرنا اختلاف الصحابة رضی اللہ عنهم فی جواز التیمم من الجنابة وترجیح قول المجوزین لمعاضدة الاحادیث ایاه والحیض والنفاس ملحقان بالجنابة لأنهما فی معناها مع ما أنه ثبت جواز التیمم منها لعموم بعض الاحادیث التی رویناها اھ(۱/۵۴)۔
سورۃ احزاب کی آیت نمبر۴۵ کو حضورؐ کی حاضر وناظر ہونے پر پیش کرنا، اور غصہ، نشہ، اور ایک ساتھ تین طلاق دینے کا حکم
یونیکوڈ تیمم 0سردی کے موسم میں غسل واجب ہوجاۓ تو تیمم اختیار کرنے کے لۓکسی سے گرم پانی طلب کرنے میں شرم و حیا کا عذر کرنا
یونیکوڈ تیمم 0عید کی نماز پڑھتے ہوۓ ، وضو ٹوٹنے کی صورت میں تیمم کا حکم-نعت ریکارڈنگ کے بیک گراونڈ میں "اللہ اللہ "کا ساونڈ لگانا
یونیکوڈ تیمم 0