تیمم

تین طلاق پر تفصیلی فتوی

فتوی نمبر :
58689
| تاریخ :
معاملات / احکام طلاق / تیمم

تین طلاق پر تفصیلی فتوی

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ میری بیٹی جو کہ حیدر آباد میں رہتی ہے، میرا داماد ہر وقت اس کو مارتا اور گھر سے بے دخل کرتا رہتا تھا چند دنوں قبل میرے داماد نے ٹیلیفون کیا کہ تم لوگ حیدرآباد آجاؤ، میں تمہاری بیٹی کو طلاق دوں گا اس کو ساتھ لے جاؤ، دوسرے دن ہم سویرے گئے تو اس نے اپنے رشتہ داروں کو بھی بلایا تھا، اس نے ہم سب کے سامنے کہا اپنی بیوی کو مخاطب کرکے ’’میں نے اس کو طلاق دی، میں نے اس کو طلاق دی، میں نے اس کو طلاق دی‘‘ تین مرتبہ طلاق دینے کے بعد کہا کہ اپنی بیٹی کو لے جاؤ، اب یہ آزاد ہے، جس سے چاہو شادی کرادو، اور مہر کے عوض زیورات دیئے اور پھر اس کا سامان گھر سے باہر نکال دیا اور اسی وقت گھر کو تالا لگایا، ہم بیٹی کو کراچی لے آئے، اس واقعہ کے چند دن بعد اس نے غیر مقلدین کے مدرسہ سے حیدرآباد سے فتویٰ حاصل کیا، جس میں لکھا ہوا تھا کہ ایک طلاق رجعی واقع ہوئی ہے اور رجوع کرنے کے بعد اپنے گھر رکھنے کا مشورہ دیا اور یہ آیت اور حدیث بھی فتویٰ میں لکھی: ﴿وبعولتھن أحق بردھن فی ذالک ان ارادوا اصلاحًا﴾ (البقرۃ) اور حدیث میں ابن عباسؓ نے فرمایا کہ طلاق ثلاث نبی کریم ﷺ اور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے ابتدائی دو سال میں ایک تھی الخ۔ یہ فتویٰ اور ایک خط کسی طریقے سے میری بیٹی تک پہنچایا، میری بیٹی بغیر بتائے چلی گئی، جب ہم دوبارہ اس کے پاس گئے تو داماد اور میری بیٹی کہنے لگے کہ ہم نے رجوع کرلیا ہے، طلاق واقع نہیں ہوئی، ہم نے بارہا کوشش کی لیکن میری بیٹی نہیں مانی، آپ مہربانی فرماکر قرآن و سنت رسول ﷺ کی روشنی میں بتائیں کہ طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

قرآن و سنت اور فقہ کی روشنی میں ایک مجلس کی تین طلاقیں خواہ ایک جملہ سے دی ہوں جیسے ’’تجھے تین طلاق ہیں‘‘ یا الگ الگ جملوں سے دی ہوں جیسے ’’تجھے طلاق ہے، تجھے طلاق ہے، تجھے طلاق ہے‘‘۔ ان دونوں صورتوں میں تین طلاقیں شمار ہوں گی اور تینوں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوجائےگی، جس کے بعد نہ رجوع ہوسکتا ہے اور نہ ہی بغیر حلالۂ شرعیہ کے دوبارہ باہم عقدِ نکاح ہوسکتا ہے۔
حضراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور تابعین عظام رحمہم اللہ تعالیٰ کا اس پر اتفاق ہے اور امت کے چاروں اماموں یعنی حضرت امام اعظم ابو حنیفہ، امام مالک، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ کا یہی مسلک ہے، ایک مجلس کی تین طلاقیں ایک طلاقِ رجعی کے حکم میں ہرگز نہیں، اور غیر مقلدین کا مجلس واحدہ کی تین طلاقوں کو ایک طلاقِ رجعی کے حکم میں قرار دینا احادیث صحیحہ صریحہ کی روشنی میں نہایت ہی کمزور اور فہمِ حدیث سے دوری پر مبنی ہے۔
منسلکہ فتویٰ میں قرآنِ کریم کی جس آیت سے تین طلاقوں کے بعد رجوع کرنے پر استدلال کیا گیا ہے قطعاً درست نہیں، بلکہ یہ تفسیر جمہور محدثین، مفسرین اور مجتہدین کے خلاف ہے، چنانچہ تفسیر روح المعانی، الدر المنثور، زاد المسیر، تفسیر ابن کثیر اور تفسیر قرطبی وغیرہ میں ہے کہ اس سے طلاقِ رجعی مراد ہے نہ کہ بائن اور تین طلاقیں، حضراتِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین جو سرچشمۂ علومِ نبوت ہیں ان جیسی عظیم المرتبت شخصیات اور جمہور مفسرین کی تفاسیر کو چھوڑ کر قرآن و حدیث میں ذاتی رائے قائم کرنا اور اپنی سمجھ سے فیصلے کرنا علومِ شریعت کو اپنی خواہشات کے تابع کرنے کے مترادف ہے جو قطعاً کسی مسلمان کے لائق نہیں۔ *

اسی طرح مسلم شریف کی پوری حدیث ذکر نہ کرکے اس میں خیانت سے کام لیا گیا حالانکہ اس حدیث مبارکہ میں حضرت عمرؓ جیسے جلیل القدر صحابی عوام الناس کے احوال کی بناء پر تین طلاقوں کے نافذ ہونے کا حکم دے رہے ہیں اور اس پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کااجماع بھی ہورہا ہے، نیز مسلم والی روایت جن صحابی یعنی ابن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف منسوب ہے خود انہی سے ابو داؤد شریف میں تین طلاقوں کے وقوع کا حکم مروی ہے جو درجِ ذیل ہے۔ *

اس کے علاوہ کئی ایک احادیثِ صحیحہ صریحہ میں تین طلاقوں کے نافذ ہونے کا ذکر ہے، چنانچہ بخاری شریف کتاب الطلاق میں حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ ’’ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں، اس نے دوسرے شخص سے نکاح کرلیا، دوسرے شخص نے بھی اسے طلاق دے دی، تو آپ ﷺ سے پوچھا گیا کہ آیا پہلے شخص کیلئے یہ حلال ہوگئی؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں جب تک پہلے شخص کی طرح دوسرا شخص بھی اس کا ذائقہ نہ چکھ لے یعنی صحبت نہ کرلے۔
اسی طرح اس باب کی ایک دوسری حدیث میں مذکور ہے ’’کذبت علیھا یا رسول اللہ إن امسکتھا فطلّقھا ثلاثۃ قبل أن یامرہ رسول اللہ ﷺ‘‘ یعنی یا رسول اللہ! اگر میں اب بھی اس عورت کو اپنے پاس رکھوں تو گویا میں نے اس پر جھوٹا بہتان باندھا۔ اس کے بعد انہوں نے حضور اقدس ﷺ کے حکم دینے سے پہلے ہی تین طلاقیں دے دیں (اور آپ علیہ السلام نے انہیں جاری فرمایا)۔
اسی طرح امام دار قطنی حضرت ابو سلمہؓ سے روایت کرتے ہیں کہ طلق بن عمرو بن مغیرہ نے اپنی بیوی کو اکٹھی تین طلاقیں دیں۔ (دار قطنی) غرض اس طرح کئی ایک احادیث مبارکہ میں تین طلاقیں واقع اور نافذ ہونے کا ذکر ہے، جن میں سے بعض روایات بلا ترجمہ بھی ذیل میں مذکور ہیں، لہٰذا کسی بھی شخص کیلئے شرعاً یہ جائز نہیں کہ اس طرح بلا تحقیق اور بغیر علم کے غلط مسائل بیان کرکے عوام میں انتشار پھیلائے۔ *

اسی طرح سوید بن غفلہؓ فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ خثعمیہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں، جب حضرت علیؓ قتل کردیئے گئے تو ان کی بیوی نے کہا کہ آپ کو خلافت مبارک ہو، حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا، اچھا تم حضرت علیؓ کے قتل کی خوشی کا اظہار کررہی ہو، جاؤ تمہیں تین طلاق، راوی کہتے ہیں کہ انہوں نے پردہ کرلیا اور عدت میں بیٹھ گئیں، جب عدت پوری ہوگئی تو حضرت حسنؓ نے ان کو ان کا بقیہ مہر پورا کرکے اُن کے پاس بھیج دیا اور اس کے علاوہ مزید دس ہزار درہم بھیج دیئے، جب قاصد یہ رقم لے کر اُن کے پاس آیا تو انہوں نے کہا یہ تو بچھڑنے والے دوست کی طرف سے متاعِ قلیل ملا ہے، جب اس خاتون کا یہ قول حضرت حسنؓ کے پاس پہنچا تو آپؓ رو پڑے اور فرمایا کہ اگر میں نے اپنے نانا جان سے یہ بات نہ سنی ہوتی یا یہ فرمایا کہ اگر مجھ سے میرے والد یہ بیان نہ کرتے جو انہوں نے میرے نانا جان سے یہ سنا ہے کہ جو شخص اپنی بیوی کو تین طہروں میں تین طلاقیں دے دے یا تین مبہم طلاقیں دے دے تو وہ عورت اس کیلئے حلال نہیں رہتی حتیٰ کہ وہ دوسرے شوہر کے ساتھ نکاح نہ کرلے تو میں اپنی بیوی کو اپنے نکاح میں واپس لے لیتا۔ *

لہٰذا مذکور مرد اور عورت دونوں پر لازم ہے کہ وہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں، اور اب تک منسلکہ غلط فتویٰ پر عمل کرنے کی وجہ سے جو گناہ ہوا ہے اس پر دونوں صدقِ دل سے توبہ واستغفار کریں، اب باوجود سمجھانے کے اگر یہ دونوں اپنی اس ناجائز حرکت سے باز نہ آئیں تو اہلِ محلہ اور دیگر اقرباء کو چاہئے کہ ایسے بدطینت افراد سے قطع تعلق کرلیں، نیز اُن کے خلاف اُن کے اس ناجائز فعل پر عدالت سے بھی رجوع کیا جاسکتا ہے۔ *



مأخَذُ الفَتوی

* وبعولتھن احق بردھن فی ذالک (الآیۃ) کی تفاسیر:
فی روح المعانی: ھٰذا اذا کان الطّلاق رجعیًّا للآیۃ بعدھا۔ (ج۲، ص۱۳۴)
وفی الدّر المنثور: أخرج ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والبیھقی عن ابن عباس رضی اللہ عنہما فی قولہ تعالی وبعولتھنّ أحق بردّھن یقول اذا طلق الرجل امرأتہ تطلیقۃ أو تطلیقتین وہی حامل فھو أحق برجعتھا۔ وأخرج عبد الرزاق وعبد بن حمید وابن جریر عن قتادۃ (فی حدیث طویل الٰی أن قال) فی العدّۃ مالم یطلّقھا ثلاثًا۔ (ج۱، ص۲۸۶)
وفی تفسیر ابن کثیرؒ: وھٰذا فی الرّجعیات۔ (ج۱، ص٢٧١)۔
وفی زاد المسیر: خاصٌ فی الرجعیّات۔ (ج۱، ص۲۶۱)
وفی التفسیر القرطبی: وأجمع العلماء علٰی أنّ الحرّ اذا طلّق زوجتہ الحرّۃ وکانت مدخولًا بھا تطلیقۃ أو تطلیقتین أنّہ أحقّ برجعتھا۔ (ج۳، ص۱۲۱)

* وفی فتح الباری: وأخرج ابو داؤد بسند صحیح من طریق مجاھد قال کنت عند ابن عباسؓ فجاءہ رجل فقال انّہ طلّق امرأتہ ثلاثا فسکت حتی ظننت أنّہ سیردّھا الیہ فقال ینطلق أحدکم فیرکب الاحموقۃ ثمّ یقول یا ابن عباس یا ابن عباس انّ اللہ تعالٰی قال ومن یتّق اللہ یجعل لّہ مخرجا وانّک لم تتق اللہ فلا أجد لک مخرجا عصیت ربک وبانت منک امرأتک۔ (ج۹، ص۳۶۲) وفی سنن ابی داؤد: ج۱، ص۳۰۶)

* عن عائشۃ رضی اللہ عنھا انّ رجلا طلّق امرأتہ ثلاثا فتزوّجت فطلّق فسئل النبی ﷺ أتحلّ للاوّل قال لا حتی یذوق عسیلتھا کما ذاق الأوّل۔ (بخاری: ج۱، ص٧٩١)۔
عن سھل بن السعد الساعدیؓ فی حدیث طویل الٰی أن قال) کذبت علیھا یا رسول اللہ إن امسکتھا فطلّقھا ثلاثا قبل أن یأمرہ رسول اللہ ﷺ الحدیث۔ (ج۲، ص٧٩١)۔
عن محمود بن لبید رضی اللہ عنہ قال اخبر رسول اللہ ﷺ عن رجل طلّق امرأتہ ثلاث تطلیقات جمیعا فقام غضبان ثمّ قال أیلعب بکتاب اللہ وانا بین اظھرکم حتی قام رجل وقال یا رسول اللہ ألا أقتلہ (رواہ النسائی ج۲، ص٩٩، وقال فی الجوھر النقی بسند صحیح ج۲، ص١١٣، وفی نیل الأوطار: ج٦، ص١٥٠)۔
وعن سعید بن جبیر رضی اللہ قال قال رجل لابن عباس رضی اللہ عنھما طلّقت امرأتی الفا فقال لہ ابن عباس ثلاث تحرّمھا علیک وبقیتھا علیک وزر اتخذت آیات اللہ ھزوا۔ (زاد المعاد: ج٤، ص٧١)
وفی نیل الأوطار: عن ابن عباس رضی اللہ عنھما انّہ سئل عن رجل طلّق امرأتہ عدد النّجوم فقال أخطأ السنّۃ وحرمت علیہ امرأتہ رواہ الدار قطنی وھٰذا کلّہ یدلّ علی إجماعھم علی صحۃ وقوع الثلاث بالکلمۃ الواحدۃ۔ (ج۲، ص٢٣٤) وفیہ ایضًا فذھب جمھور التابعین وکثیر من الصحابۃ وائمّۃ المذاھب الأربعۃ وطائفۃ من اہل البیت منہم امیر المومنین علی رضی اللہ عنہ والناصر والامام یحیٰ حکیٰ ذالک عنھم فی البحر وحکاہ ایضًا عن بعض الامامیۃ إلٰی أنّ الطلاق یتّبع الطلاق۔ اھـ (ج٦، ص٢٤٥)۔

* عن سوید بن غفلہ رضی اللہ عنہ قال کانت عائشۃ الخثعمیّۃ عند الحسن بن علی رضی اللہ عنہ فلمّا قتل علی رضی اللہ عنہ قالت لتھنئک الخلافۃ قال بقتل علیّ تظھرین الشماتۃ؟ إذھبی فأنتِ طالق یعنی ثلاثا (الٰی أن قال) لو لا انّی سمعت جدّی أو حدّثنی أبی أنّہ سمع جدی یقول: أیّما رجل طلق امرأتہ ثلاثا عند الاقراء أو ثلاثا مبھمۃ لم تحل لہ حتی تنکح زوجًا غیرہ لراجعتھا۔ (رواہ البیھقی فی الطّلاق)۔

* وفی فتاویٰ ابن تیمیۃ: إن کان قد طلّقھا ثلاثًا فقد وقع بہ الطّلاق۔ اھـ (ج۲، ص٢٤٠ المسئلۃ السابعۃ والاربعون)۔
وفی الشامیۃ: وذھب جمھور الصحابۃ والتابعین ومن بعدھم من ائمّۃ السّلف إلٰی أنّہ یقع الثلاث۔ (ج٣، ص٢٣٣) واللہ اعلم بالصواب



واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد آصف نواب عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 58689کی تصدیق کریں
1     2538
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • سردیوں میں غسل کے بجائے تیمم کرسکتے ہیں؟

    یونیکوڈ   اسکین   تیمم 1
  • تین طلاق پر تفصیلی فتوی

    یونیکوڈ   تیمم 1
  • لاپتہ شوہر کی بیوی کیلئے نکاح کا کیا حکم ہے؟

    یونیکوڈ   تیمم 0
  • سورۃ احزاب کی آیت نمبر۴۵ کو حضورؐ کی حاضر وناظر ہونے پر پیش کرنا، اور غصہ، نشہ، اور ایک ساتھ تین طلاق دینے کا حکم

    یونیکوڈ   تیمم 0
  • تیمم اور مسح کرنے والے کے پیچھے وضو کرنے والے کی نماز کا حکم

    یونیکوڈ   تیمم 1
  • سردی کے موسم میں غسل واجب ہوجاۓ تو تیمم اختیار کرنے کے لۓکسی سے گرم پانی طلب کرنے میں شرم و حیا کا عذر کرنا

    یونیکوڈ   تیمم 0
  • غسل کے لۓ تیمم کرنے کے بعد پانی میسر ہو جائے تو غسل اور نماز کا حکم

    یونیکوڈ   انگلش   تیمم 1
  • پانی کا استعمال نقصان دہ ہو تو تیمم کیا جا سکتا ہے یا نہیں؟

    یونیکوڈ   تیمم 0
  • صحبت کے بعد چارپائی اُترنے سے قبل تیمم کا حکم

    یونیکوڈ   تیمم 0
  • ’’گرم ہیرد‘‘ نامی بیماری میں تیمم کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   تیمم 0
  • پانی کی عدمِ موجودگی یا عدمِ قدرت کی صورت میں غسلِ جنابت کے لۓ تیمم کرنا

    یونیکوڈ   تیمم 0
  • تیمم کی صحت لۓ صرف مٹی ضروری نہیں

    یونیکوڈ   تیمم 0
  • پانی کی موجودگی میں تیمم کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   تیمم 0
  • جنبی شخص کے لئے تنگیِ وقت کی وجہ سے تیمم کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   تیمم 0
  • غسلِ جنابت کے لیےاگر پانی میسر نہ ہو تو گھریلو کام کاج اور نماز کا حکم:

    یونیکوڈ   تیمم 0
  • عید کی نماز پڑھتے ہوۓ ، وضو ٹوٹنے کی صورت میں تیمم کا حکم-نعت ریکارڈنگ کے بیک گراونڈ میں "اللہ اللہ "کا ساونڈ لگانا

    یونیکوڈ   تیمم 0
  • کن حالات میں غسل کی جگہ تیمم کی اجازت ہے؟

    یونیکوڈ   تیمم 0
  • زخم پر پانی بہانا ممکن نہ ہو تو کیا تیمم پر اکتفا کرسکتے ہیں؟

    یونیکوڈ   تیمم 0
  • بیماری کی شدت کے پیش نظرتیمم کاحکم

    یونیکوڈ   تیمم 0
  • جو شخص پانی کے استعمال پر قادر نہ ہو اس کے لئے تیمم کا حکم

    یونیکوڈ   تیمم 0
  • مقام پر پہنچنے کے بعد لاعلمی میں تیمم سے پڑھی ہوئی نماز کا حکم

    یونیکوڈ   تیمم 0
  • وضو کے بعد شرمگاہ کی جانب میں چھینٹیں مارنے کا حکم

    یونیکوڈ   تیمم 0
  • اسکول میں پانی نہ ہونے کے وجہ سے تیمم کی جا سکتی ہے ؟

    یونیکوڈ   تیمم 0
  • بیمار شخص فرض غسل کے بجائے تیمم کرکے فجر کی نماز پڑھے یا غسل کرنے تک نماز مؤخر کرے؟

    یونیکوڈ   تیمم 0
  • مسجد میں سوتے ہوئے احتلام ہوجائے تو کیا کیا جائے؟

    یونیکوڈ   تیمم 0
Related Topics متعلقه موضوعات