کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارےمیں کہ اگر کوئی شخص کسی بیماری کی وجہ سے پانی کے استعمال سے قاصر ہو اور نہ ہی تیمّم کر سکتا ہو تو آیا بلاطہارت نماز پڑھ سکتا ہے یا نہیں؟
اگر کوئی مریض اپنی بیماری کی وجہ سے وضو اور تیمم دونوں پر واقعۃً قادر نہ ہو تو بغیر طہارت بھی نماز پڑھنے کی گنجائش ہے اور اس کا اعادہ بھی ضروری نہیں۔
فی الدر المختار: (مقطوع اليدين والرجلين إذا كان بوجهه جراحة يصلي بغير طهارة) ولا يتيمم (ولا يعيد على الأصح) وبهذا ظهر أن تعمد الصلاة بلا طهر غير مكفر فليحفظ اھ(1/252، 253)۔
وفي الفتاوى الهندية: رأيت في الجامع الصغير للكرخي أن مقطوع اليدين والرجلين إذا كان بوجهه جراحة يصلي بغير طهارة ولا تيمم ولا يعيد وهذا هو الأصح كذا في الظهيرية اھ(1/ 31)۔
سورۃ احزاب کی آیت نمبر۴۵ کو حضورؐ کی حاضر وناظر ہونے پر پیش کرنا، اور غصہ، نشہ، اور ایک ساتھ تین طلاق دینے کا حکم
یونیکوڈ تیمم 0سردی کے موسم میں غسل واجب ہوجاۓ تو تیمم اختیار کرنے کے لۓکسی سے گرم پانی طلب کرنے میں شرم و حیا کا عذر کرنا
یونیکوڈ تیمم 0عید کی نماز پڑھتے ہوۓ ، وضو ٹوٹنے کی صورت میں تیمم کا حکم-نعت ریکارڈنگ کے بیک گراونڈ میں "اللہ اللہ "کا ساونڈ لگانا
یونیکوڈ تیمم 0