میاں بیوی کی ہمبستری کے بعد معلوم ہوا پانی ختم ہوگیا ہے، صبح نماز کا وقت ہے پانی بہت کم ہے، تو ایسی صورت میں کیا تیمم کیا جاسکتا ہے؟ اور اس کا طریقہ کیا ہوگا؟ نیز اس حالت میں کھانا پینا یا گھر کے دوسرے کام کیے جاسکتے ہیں؟ کتاب وسنت کی روشنی میں جواب سے مطلع فرمادیں۔
جنابت کی حالت میں کھانا پینا یا گھریلو کام کرنا بلاشبہ جائز ہے، البتہ کھانے، پینے سے پہلے کم از کم کلی کرنا او رہاتھ منہ دھولینا چاہیے، مگر ایسے افراد اگر ایسی جگہ (یعنی شہر وغیرہ میں)ہوں جہاں پانی میسر آسکتا ہے تو ان کا تیمم کرکے نماز پڑھنا جائز نہیں۔
ففی الشامیة: إذا أراد الجنب ان یأكل فالمستحب له أن یغسل یدیه ویتمضض،وذكر فی الحلیة عن ابی داؤد وغیره أنه علیه السلام: إذا أراد أن یأكل وهو جنب غسل كفیه.اهـ (1/293)
وفي حاشية الطحاوي على المراقي: وله أن يقبلها وضاجعها ولا يكره طبخهاولا إستعمال ما مسته من عجين أو ماء أوغيرهما إلا إذا توضأت بقصد القربة ولا ينبغي العزل عن فراشها لأنه يشبه فعل اليهود كما في البحر والمذكور في المصنف قولهما وعليه الفتوى اھ(2/ 137)
وفی الفتاوى الهندية: لا يجوز التيمم لعدم الماء في المصر وكذا القرى التي لا يفارقها أهلها أو أكثرهم نهارا وذكر عن السلمي جواز ذلك والصحيح عدم الجواز والخلاف بعد الطلب وأما قبله فلا يجوز اجماعا اھ(1/ 27)
سورۃ احزاب کی آیت نمبر۴۵ کو حضورؐ کی حاضر وناظر ہونے پر پیش کرنا، اور غصہ، نشہ، اور ایک ساتھ تین طلاق دینے کا حکم
یونیکوڈ تیمم 0سردی کے موسم میں غسل واجب ہوجاۓ تو تیمم اختیار کرنے کے لۓکسی سے گرم پانی طلب کرنے میں شرم و حیا کا عذر کرنا
یونیکوڈ تیمم 0عید کی نماز پڑھتے ہوۓ ، وضو ٹوٹنے کی صورت میں تیمم کا حکم-نعت ریکارڈنگ کے بیک گراونڈ میں "اللہ اللہ "کا ساونڈ لگانا
یونیکوڈ تیمم 0