کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ عموماً گاؤں اور دیہاتوں میں پانی بہت ٹھنڈا ہوتا ہے اور خصوصاً موسم سرما میں تو اس کی ٹھنڈک انتہا تک پہنچ جاتی ہے اب اگر کسی شخص کو غسل کی حاجت لاحق ہوجائے اور آدمی اپنے گھر ہی میں ہو ، اگر آدمی ٹھنڈے پانی سے غسل کرتا ہے تو اس صورت میں بیمار ہونے کا خدشہ ہے لیکن گرم پانی کسی سے طلب نہیں کرسکتا بوجہ شرم کے ، اور بالفرض اگر گرم پانی مل بھی جائے تو گرم پانی سے غسل کر بھی لے تو اس صورت میں اگر اس کو تھوڑی بہت ہوا لگ جائے تو بخار ہوجاتا ہے اگر یہ آدمی تیمم کرکے نماز پڑھے تو اس کیلئے کیا حکم ہے اور آیا اس تیمم سے نماز پڑھا سکتا ہے یا نہیں؟ قرآن اور حدیث سے مبرہن فرمائیں۔
واضح ہو کہ امورِ شرعیہ میں شرم و حیا کرنا قطعاً نامناسب اور مذموم ہے ، لہٰذا سخت شدید ٹھنڈے موسم میں اگر غسل جنابت واجب ہوجائے اور ٹھنڈے پانی کے استعمال سے کسی عضو کے تلف ہونے یا بیمار ہونے کا بھی اندیشہ نہ ہو یا بصورتِ دیگر پانی گرم کرنے کا بندوبست موجود ہو یا گرم پانی بآسانی دستیاب ہوسکتا ہو اور بعد میں ہوا سے بچاؤ کا انتظام ( چادر وغیرہ )ہو سکے تو تیمم کرنا قطعاً درست نہیں، بلکہ گرم پانی سے غسل کرنا شرعاً واجب ہے۔
فی الہندیۃ : (ج۱،ص۲۸) و یجوز الیتمم إذا خاف الجنب إذا اغتسل بالماء أن یقتلہ البرد أو یمرضہ ھٰذا إذا کان خارج المصر اجماعًا، فإن کان فی المصر فکذا عند ابی حنیفۃؒ خلافًا لہما و الخلاف فیما اذا لم یجد ما یدخل بہ الحمام ، فإن وجد لم یجز اجماعًا ، و فیما إذا لم یقدر علی تسخین الماء فان قدر لم یجز ھکذا فی السراج الوہاج۔
سورۃ احزاب کی آیت نمبر۴۵ کو حضورؐ کی حاضر وناظر ہونے پر پیش کرنا، اور غصہ، نشہ، اور ایک ساتھ تین طلاق دینے کا حکم
یونیکوڈ تیمم 0سردی کے موسم میں غسل واجب ہوجاۓ تو تیمم اختیار کرنے کے لۓکسی سے گرم پانی طلب کرنے میں شرم و حیا کا عذر کرنا
یونیکوڈ تیمم 0عید کی نماز پڑھتے ہوۓ ، وضو ٹوٹنے کی صورت میں تیمم کا حکم-نعت ریکارڈنگ کے بیک گراونڈ میں "اللہ اللہ "کا ساونڈ لگانا
یونیکوڈ تیمم 0