مجھے یہ جاننا ہے کہ غسل جنابت کی جگہ تیمم کیا جاسکتا ہے؟ اور کن کن حالات میں غسل جنابت کی جگہ تیمم کرنے کی اجازت ہے؟
بعض مخصوص حالات مثلاً کسی شخص کے پاس پینے کے پانی کے علاوہ وضو یا غسل جنابت کیلئے پانی موجود نہ ہو ، اور میل شرعی (چار ہزار گز) کی مسافت تک پانی ملنے کا قوی امکان نہ ہو، یا کسی ایسی بیماری میں مبتلا ہو کہ پانی استعمال کرنے سے اس کی بیماری بڑھنے یا جان ضائع ہونے کا قوی اندیشہ ہو ، یا کسی دشمن یا درندے کی وجہ سے پانی تک پہنچنا ممکن نہ ہو یا کوئی اور عذر شرعی ہو ، تو ایسی تمام صورتوں میں وضو کی طرح غسل جنابت میں بھی تیمم جائز اور درست ہوتا ہے۔
کما فی الشامیة: تحت (قوله ثلث به) ای جعلہ ثالثا للوضوء والغسل. اهـ (٢٢٢/١)
وفی كنز الدقائق: باب التیمم یتیمم لبعده میلا عن ماء او لمرض او برد او خوف عدو او عطف او فقد آلة مستوعبا وجعه ویدیه مع مرفقیه. اهـ (٩) والله اعلم
سورۃ احزاب کی آیت نمبر۴۵ کو حضورؐ کی حاضر وناظر ہونے پر پیش کرنا، اور غصہ، نشہ، اور ایک ساتھ تین طلاق دینے کا حکم
یونیکوڈ تیمم 0سردی کے موسم میں غسل واجب ہوجاۓ تو تیمم اختیار کرنے کے لۓکسی سے گرم پانی طلب کرنے میں شرم و حیا کا عذر کرنا
یونیکوڈ تیمم 0عید کی نماز پڑھتے ہوۓ ، وضو ٹوٹنے کی صورت میں تیمم کا حکم-نعت ریکارڈنگ کے بیک گراونڈ میں "اللہ اللہ "کا ساونڈ لگانا
یونیکوڈ تیمم 0