کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ سے متعلق کہ جب میں نماز کے لیے وضو بناتا ہوں تو مجھے ’’گرم ہیرد‘‘ کی تکلیف ہو جاتی ہے یعنی کہ ایسا بخار ہونے لگتا ہے جس میں فالج وغیرہ کا خطرہ ہوتا ہے اور وضو بنانے کے بعد جب میں اپنے پاؤں زمین پر رکھتا ہوں تو میرے ٹانگوں میں درد ہو جاتا ہے تو ایسی صورتِ حال میں آپ حضرات سے یہ معلوم کرنا ہے کہ کیا شریعت میں میرے لیے اس بات کی گنجائش ہے کہ میں وضو کے بجائے تیمم کر کے نماز پڑھا کروں، تا کہ میری نمازیں بھی نہ چھوٹیں اور مجھے تکلیف بھی نہ ہو ، نیز اس پر بھی غور فرمائیں کہ میرے لیے ظہر اور عصر کے وقت وضو کرنے میں اتنی مشکلات نہیں ہوتیں، کیونکہ وہ وقت گرم ہوتا ہے باقی تین اوقات میں وضو کرنا میرے لیے خطرناک ہوتا ہے، اس لحاظ سے بھی حکمِ شرعی سے آگاہ فرمائیں کہ میں کیا طریقہ اختیار کروں، تاکہ میرے لیے نماز پڑھنے میں مشکلات نہ ہو؟
سائل کو جن اوقات میں پانی کے استعمال سے واقعۃً یا گمان غالب کے درجہ میں سخت تکلیف اور فالج کا اندیشہ ہو اور پانی گرم کرنے کا انتظام نہ ہو تو ان اوقات میں تیمم کر کے نماز پڑھ سکتا ہے اور باقی اوقات میں وضو کرنا لازم ہے۔
ففی الفتاوى الهندية: ولو كان يجد الماء إلا أنه مريض يخاف إن استعمل الماء اشتد مرضه أو أبطأ برؤه يتيمم (إلی قوله) ويعرف ذلك الخوف إما بغلبة الظن عن أمارة أو تجربة أو إخبار طبيب حاذق مسلم غير ظاهر الفسق اھ (1/ 28)
سورۃ احزاب کی آیت نمبر۴۵ کو حضورؐ کی حاضر وناظر ہونے پر پیش کرنا، اور غصہ، نشہ، اور ایک ساتھ تین طلاق دینے کا حکم
یونیکوڈ تیمم 0سردی کے موسم میں غسل واجب ہوجاۓ تو تیمم اختیار کرنے کے لۓکسی سے گرم پانی طلب کرنے میں شرم و حیا کا عذر کرنا
یونیکوڈ تیمم 0عید کی نماز پڑھتے ہوۓ ، وضو ٹوٹنے کی صورت میں تیمم کا حکم-نعت ریکارڈنگ کے بیک گراونڈ میں "اللہ اللہ "کا ساونڈ لگانا
یونیکوڈ تیمم 0