اگر کسی شخص کا وضو دورانِ نمازِ عید ٹوٹ جائے اور ایسی حالت نہ ہو کہ وہ وضو دوبارہ کرکے جماعت میں شریک ہو سکتا ہو ، اس صورت میں وہ اپنی نماز کا کیا کرے؟ کیا اکیلا پڑھ سکتا ہے یا رہنے دے؟
میرا سوال یہ ہے کہ آج کل جو نعتیں پڑھی جاتی ہیں، ان کے بیک گراونڈ میں ذکر بھی پڑھتے ہیں ، جیسے اللہ، اللہ، وغیرہ کبھی کبھی وہ بہت عجیب لگتا ہے، اس بارے میں کچھ راہ نمائی دیجیے کہ ایسا کرنا جائز یا نہیں؟
۱۔ اس صورت میں اگر قریب پانی وغیرہ ہو اور وضو کرکے دوبارہ شریکِ جماعت ہو نے کی اُمید ہو ، تو وضو ، ورنہ تیمم کر کے نماز باجماعت پوری کرے۔
۲۔اللہ رب العزت کے نام کو بطورِ موسیقی اور ساز کے استعمال کرنا ، انتہائی درجہ کی بے ادبی پر مبنی اور گناہ ہے ، اس لۓ نعتوں کے ساتھ اس نیت سے ذکر کرنے سے احتراز لازم ہے، تاہم اگر کوئی دوسری غرض ہو ، تو اس کی وضاحت کے بعد حکمِ شرعی بھی معلوم کیا جا سکتا ہے۔
فی الفتاوى الهندية : التيمم لصلاة العيد قبل الشروع بها لا يجوز للإمام إذا لم يخف خروج الوقت و إلا يجوز . هكذا في البحر الرائق . (إلی قوله) و لا يجوز للمقتدي إن لم يخف فوت الصلاة لو توضأ و إلا يجوز . (إلی قوله) و الأصل أن كل موضع يفوت فيه الأداء لا إلى خلف فإنه يجوز له التيمم و ما يفوت إلى خلف لا يجوز له التيمم كالجمعة . كذا في الجوهرة النيرة . اھ (1/ 31)۔
فی حاشية ابن عابدين : و عن النبي - صلى الله تعالى عليه و سلم - أنه كره رفع الصوت عند قراءة القرآن و الجنازة و الزحف و التذكير ، فما ظنك به عند الغناء الذي يسمونه وجدا و محبة فإنه مكروه لا أصل له في الدين اھ (6/ 349)۔
وفیها أیضاً : فإن أراد أن يذكر الله - تعالى - يذكره في نفسه {إنه لا يحب المعتدين} [الأعراف: 55] أي الجاهرين بالدعاء . و عن إبراهيم أنه كان يكره أن يقول الرجل و هو يمشي معها "استغفروا له غفر الله لكم" . اهـ. قلت : و إذا كان هذا في الدعاء و الذكر فما ظنك بالغناء الحادث في هذا الزمان . اھ (2/ 233)۔
سورۃ احزاب کی آیت نمبر۴۵ کو حضورؐ کی حاضر وناظر ہونے پر پیش کرنا، اور غصہ، نشہ، اور ایک ساتھ تین طلاق دینے کا حکم
یونیکوڈ تیمم 0سردی کے موسم میں غسل واجب ہوجاۓ تو تیمم اختیار کرنے کے لۓکسی سے گرم پانی طلب کرنے میں شرم و حیا کا عذر کرنا
یونیکوڈ تیمم 0عید کی نماز پڑھتے ہوۓ ، وضو ٹوٹنے کی صورت میں تیمم کا حکم-نعت ریکارڈنگ کے بیک گراونڈ میں "اللہ اللہ "کا ساونڈ لگانا
یونیکوڈ تیمم 0